http://bbc.com.im/urdu/

Thursday, 13 April, 2006, 15:25 GMT 20:25 PST

ریاض سہیل
بی بی سی اردو ڈاٹ کام

حکومت کی یقین دہانی پر بے یقینی

نشتر پارک واقعے کے بعد حکومت اہل سنت جماعتوں اور سنی تحریک کو اعتماد میں نہیں لے سکی۔

’یہ سر کس کا ہے؟‘

حکومت کی جانب سے علماء سے مذاکرات کے لیے دعوت دی گئی تھی لیکن اجلاس کار آمد ثابت نہیں ہو سکا اور اس میں اہم رہنماؤں نے شرکت نہیں کی۔

وزیراعظم شوکت عزیز نے واقعے کی شفاف اور غیر جانبدارانہ تفتیش کرانے اور اس میں ملوث لوگوں کو بے نقاب کرنے کا اعلان کیا ہے۔

کراچی میں جمعرات کو گورنر ہاؤس میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کسی قسم کا تشدد، فرقہ واریت اور دہشت گردی قبول نہیں ہے۔
ان کے ساتھ موجود مذہبی امور کے وفاقی وزیر اعجاز الحق کا کہنا تھا کہ سنی تحریک کے رہنماؤں نے ذمے داری کا ثبوت دیا ہے اور ان کا موڈ انتقام لینے کا نہیں تھا۔

وفاقی وزیر کے مطابق ’سنی رہنماؤں نے اپنے تحفظات اور خدشات کا اظہار کیا ہم نے انہیں کہا ہے کہ مقتولین کی تدفین کے بعد اس پر بات چیت کی جائے گی‘۔

ایک سوال کے جواب میں اعجاز الحق نے کہا ’دھماکے میں کسی بیرونی ہاتھ کے ملوث ہونے کو خارج الامکان قرار نہیں دیا جاسکتا‘۔
کراچی میں احتجاج بھی جاری ہے اور گرفتاریاں بھی

وفاقی وزیر کی یقین دہانی کے باوجود سنی تحریک اپنے الٹی میٹم پر قائم ہے، سنی تحریک کے رہنما شاہد غوری نے بی بی سی کو بتایا کہ ہم نے وزراء سے مطالبہ کیا کہ اس دھماکے کے پیچھے جو بھی عوامل اور حقائق ہیں انہیں سامنے لایا جائے۔

شاہد غوری کے مطابق کچھ لوگ سنی تحریک کی مقبولیت سے خوفزدہ ہیں اور ہمیں ختم کرنا چاہتے ہیں۔ ان کے مطابق وزراء نے یقین دہانی کروائی کہ زیادتیوں کا ازالہ کیا جائے گا، وفاق حکومت اس پر کام کر رہی ہے۔

اہل سنت اور جماعت کے رہنما اور رویت ہلال کمیٹی کے چیئرمین مفتی منیب الرحمان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حکمراں پیش رفت کریں اور اہل سنت کے ذمہ داروں سے خود میٹنگ کریں، محض بیان جاری کرنے سے اس کے تقاضے پورے نہیں ہونگے۔

انہوں نے کہا کہ حکمران عدل اور انصاف کے لیے اگر کوئی کارروائی کر رہے ہیں تو بتانا چاہیے،اس کے بعد بحالی اعتماد کی صورت پیدا ہوسکتی۔

حکام سے مذاکرات میں شریک ہونے کے بارے میں ان کا کہنا تھاکہ ’اس وقت ہمارے علماء اور تنظیموں کا اجلاس بلایا جاچکا جس میں ملک بھر سے علما آئے ہوئے تھے، انہیں چھوڑ کر جانا مناسب نہیں تھا‘۔