http://bbc.com.im/urdu/

Monday, 10 April, 2006, 21:47 GMT 02:47 PST

اعجاز مہر
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

دو سال: کالا باغ سمیت چھ ڈیم

پاکستان کے وزیر برائے پانی و بجلی لیاقت جتوئی نے پیر کو قومی اسمبلی کو وقفہ سوالات کے دوران بتایا ہے کہ آئندہ دو برسوں میں متنازعہ کالا باغ ڈیم سمیت چھ نئے آبی ذخائر کی تعمیر عمل میں لائی جائے گی۔

کالا باغ ڈیم پر خصوصی ضمیمہ

مولانا عبدالمالک کے سوال کے تحریری جواب میں انہوں نے بتایا کہ شمالی علاقہ جات میں چلاس کے مقام پر دیامر بھاشا ڈیم، سوات میں منڈا، شمالی وزیرستان میں کرم تنگی، میانوالی میں کالا باغ، اٹک میں اکھوڑی اور دادو سندھ میں نئیں گاج ڈیم آئندہ دو برسوں میں تعمیر کیے جائیں گے۔

وزیر کے مطابق ان چھ ڈیموں میں مجموعی طور پر اکیس اعشاریہ آٹھ ملین ایکڑ فٹ یعنی ’ایم اے ایف‘ پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش ہوگی۔

انہوں نے ایوان کو بتایا کہ متنازعہ کالا باغ ڈیم کی فزیبلٹی تیار ہے جس پر اب تک ایک ارب روپے خرچ کیے جاچکے ہیں۔

تب وزیراعلٰی تھے
 وفاقی وزیر برائے پانی و بجلی لیاقت جتوئی جب سندھ میں وزیراعلیٰ تھے تو اس وقت انہوں نے صوبائی اسمبلی سے کالا باغ ڈیم کی تعمیر کے خلاف متفقہ قرار داد منظور کرا کر وفاقی حکومت سے یہ منصوبہ ترک کرنے کا مطالبہ کیا تھا
 

واضح رہے کہ گزشتہ سال کے آخر میں صدر مشرف دو بار متنازعہ کالا باغ ڈیم کی تعمیر کا اعلان کرتے کرتے رہ گئے تھے۔

حکومت کی جانب سے رائے عامہ ہموار کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر مہم شروع کی گئی تھی لیکن سندھ سے تعلق رکھنے والے اراکین اور وزیر اعلیٰ سندھ نے اس ڈیم کی شدید مخالفت کی۔

یاد رہے کہ وفاقی وزیر برائے پانی و بجلی لیاقت جتوئی جب سندھ میں وزیراعلیٰ تھے تو اس وقت انہوں نے صوبائی اسمبلی سے کالا باغ ڈیم کی تعمیر کے خلاف متفقہ قرار داد منظور کرا کر وفاقی حکومت سے یہ منصوبہ ترک کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

چند ماہ پہلے جب صدر مملکت نے اس ڈیم کی تعمیر کا معاملہ اٹھایا تو لیاقت جتوئی نے ان سے کہا تھا کہ ’سر یہ بہت متنازعہ معاملہ ہے اور اگر اس کی ہم نے حمایت کی تو ہمارے آباؤ اجداد کی قبروں کو بھی سندھ کے لوگ مٹا دیں گے‘۔

قومی اسمبلی میں پیر کو وقفہ سوالات کے دوران لیاقت جتوئی نے سمیعہ راحیل قاضی کے سوال پر ایوان میں پیش کردہ تحریری جواب میں بتایا کہ بھارت دریائے چناب پر بگلیہار ڈیم تعمیر کر رہا ہے اور خدشہ ہے کہ وہ موسم سرما میں جب پانی کی قلت ہوتی ہے تو وہ چھبیس روز تک اس دریا کا پانی روک سکتا ہے۔

ان کے مطابق پاکستان نے یہ معاملہ عالمی بینک سے اٹھایا ہے اور غیر جانبدار ماہرین اس بارے میں دونوں ممالک کی رائے پوچھ کر دو اجلاس کرچکے ہیں اور تاحال حتمی فیصلہ نہیں دیا۔