Saturday, 08 April, 2006, 06:27 GMT 11:27 PST
پاکستان میں گزشتہ سال آٹھ اکتوبر کو آنے والے زلزلے سے متاثر ہونے والے افراد کو چھ ماہ کا عرصہ گزر جانے کے باوجود اب بھی امداد کی ضرورت ہے۔
بین الاقوامی سطح پر امدادی کام انجام دینے والی برطانوی تنظیم آکسفیم کے مطابق ہزاروں زلزلہ متاثرین کی آباد کاری کے لیے مزید امداد کی ضرورت ہے کیونکہ حکومت کی طرف سے لگائے گئے عارضی امدادی کیمپوں کو اب بند کیا جا رہا ہے۔
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر اور صوبہ سرحد کے بعض اضلاع میں آنے والے اس تباہ کن زلزلے میں ستر ہزار افراد ہلاک اور بیس لاکھ کے قریب بے گھر ہو گئے تھے۔
آکسفیم نے کہا ہے کہ اب ان زلزلہ متاثرین کی اپنے گھروں میں آباد کاری کا مرحلہ آ گیا ہے اور اس مرحلے پر ان لوگوں کے گھروں کی تعمیر نو کے لیئے مزید امداد کی ضرورت ہے۔
![]() | |
| زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں آبادی کاری کا مرحلہ شروع ہو گیا ہے |
آبادی کاری کے مرحلے میں پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد کے کچھ حصوں کی تعمیر نو اور بالاکوٹ سے کچھ میل کے فاصلے پر نیا شہر بسانے کا منصوبہ ہے۔
آٹھ اکتوبر کے زلزلے کے بعد اٹھارہ ہزار کے قریب جھٹکے محسوس کیئے جاچکے ہیں۔ ان جھٹکوں کے علاوہ اس دشوار گزار پہاڑی علاقے میں برفباری اور بارشوں کی وجہ سے ’لینڈ سلائیڈنگ‘ کی وجہ سے بھی امدادی کاموں میں دشواریاں پیش آتی رہی ہیں۔
مٹی کے تودے گرنے کا سلسلہ موسم گرما میں جون اور جولائی کے مہینوں میں مون سون یا برسات کی بارشوں کے دوران شدت اختیار کر سکتا ہے۔
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے چکوٹھی سے تعلق رکھنے والے عطا محمد نے کہا کہ ’امدادی کیمپوں میں کم از کم ہمارے پاس ٹینٹ تو ہیں جس میں ہمارے بچے محفوظ ہیں۔‘ انہوں نے کہا کہ پہاڑی علاقے میں جہاں ان کا گاؤں ہے وہاں ابھی تک زلزلے کے جھٹکے محسوس کیئے جا رہے ہیں اور وہاں ان جھٹکوں کی وجہ سے مٹی کے تودے گرنے کا عمل جاری ہے جس وجہ سے وہاں گھر محفوظ نہیں ہیں۔
پاکستانی نژاد برطانوی باکسر عامر خان نے جمعرات کو زلزلے سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کرنے کے بعد زلزلہ متاثرین کے لیے مزید امداد کی اپیل کی۔
انیس سالہ باکسر نے کہا کہ ’ہم سب کو مل کر ان لوگوں کی مدد کرنی چاہیے تاکہ وہ اپنے گھروں کی دوبارہ تعمیر کر سکیں۔‘
سن دو ہزار چار کے اولمپکس مقابلوں میں سونے کا تمغہ جیتے والے عامر خان نے کہا کہ انہوں نے گزشتہ دسمبر میں بھی زلزلے سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت یہاں بہت سخت سردی تھی اور انہوں نے دو کوٹ پہن رکھے تھے پھر بھی وہ سردی محسوس کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا اتنی سخت سردی میں انہیں ایک کیمپ میں دو ایسے بچے بھی ملے جن کے جسم پر صرف ایک کپڑا تھا۔
انہوں نے کہا کہ پچھلے چھ ماہ میں بہت وسیع امدادی کارروائیاں کی گئی ہیں لیکن اب بھی بہت کچھ کرنے کو باقی ہے۔