Tuesday, 04 April, 2006, 09:06 GMT 14:06 PST
وسعت اللہ خان
بابر علی ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کے پندرہ برس بعد گڑھی خدابخش میں پیدا ہوا۔ اس نے اپنے گھر کے باہر کچی منڈیر پر کرکٹ کے بلے کے زور پر کھڑے کھڑے یہ داستان سنائی۔
ذوالفقار علی بھٹو بادشاہ تھا اس لیئے وہ یہاں رہتا تھا۔ ضیالو (ضیا الحق) بھٹو صاحب کا نوکر تھا۔ ایک دن بھٹو صاحب دورے پر گیا تو اس نے ضیالو کو اپنے تخت پر بٹھا دیا۔ جب بھٹو صاحب واپس آیا تو اس نے ضیالو سے کہا کہ تم اترو۔ ضیالو نے کہا کہ میں نہیں اتروں گا۔اس لیئے جھگڑا ہوا تخت پر اور بھٹو صاحب کو پھانسی آ گئی۔ اس کے بعد ضیالو نے کہا کہ بھٹو صاحب کو کفن نہیں پہنانا ہے۔ پھر یہاں بہت سی پولیس اور فوج آ گئی اور بھٹو صاحب کو انکے قبرستان میں پور دیا گیا۔ یہ سب میں نے ٹی وی پر دیکھا ہے۔میں نے گیارہ سالہ بابر علی سے پوچھا کہ تمہیں یہ کہانی کس نے سنائی۔ کہنے لگا میں نے ٹی وی پر بس اتنا ہی دیکھا ہے۔ میں نے پوچھا کیا تم بھی بھٹو ہو کہنے لگا میری قوم تو قنبر ہے۔ اسکے بعد بابر علی بیٹ گھماتا ہوا ان بچوں میں شامل ہوگیا جو بہت دیر سے اسے اشارے کررہے تھے۔
![]() | |
| منٹھار علی اپنی ملازمت چھوڑ کر مزار پر آ بیٹھا |
گڑھی خدا بخش میں اکیلے رہ جانے والے میر اختیار خان بھٹو چار اپریل انیس سو انہتر کے دن فوج کے پہرے میں لائی جانے والی بھٹو صاحب کی لاش کو تابوت سے نکالنے والے تین افراد میں شامل تھے۔ لاش کو چارپائی پر ڈال کر حویلی میں لایا گیا جہاں فوج نے بھٹو خاندان کی قریبی خواتین کے علاوہ گاؤں کے کسی فرد کو اندرجانے کی اجازت نہیں دی۔ ہر طرف خاردار تاریں لگا دی گئی تھیں اور بار بار زور دیا جارہا تھا کہ لاش کو جلداز جلد دفنا دیا جائے۔اس وقت کے ڈپٹی کمشنر لاڑکانہ شاہد عزیز صدیقی کسی طرح فوجیوں کو یہ سمجھانے میں کامیاب ہوگئے کہ کوئی گڑبڑ نہیں ہوگی۔اس یقین دہانی کے بعد فوجیوں نے بھٹو خاندان کے آدمیوں کو نجی طور پر تجہیزوتکفین کی اجازت دے دی۔اسکے بعد بھی گاؤں میں کئی ہفتے تک فوج اور پولیس کا پہرہ لگا رہا۔ کسی کو بھی کئی روز تک صبح دس بجے کے بعد کھیتوں میں جانے کی اجازت نہیں دی جاتی تھی۔
گڑھی خدا بخش کی آبادی ڈھائی تین ہزار کے لگ بھگ ہے۔ پانچ سو کے قریب کچے پکےگھر ہیں۔گاؤں کے تقریباً وسط میں سیم کے پانی سے بنا ہوا ایک بڑا سا جوہڑ ہے۔جس کے آس پاس کے کھلے علاقے میں بچے کھیلتے رہتے ہیں۔
میں نے اختیار خان بھٹو سے پوچھا کہ ذوالفقار علی بھٹو نے اس گاؤں کے لیئے کیا کیا۔ کچھ نہیں کیا، ڈرینج اور سیوریج کا نظام، سکول ، ہسپتال سب بے نظیر کے دور میں بنا۔ جب کبھی بھٹو صاحب ہمارے گھر آتے تھے تو ہم اس سے مذاق مذاق میں پوچھتے کہ تم نے تو سارے ملک کا ٹھیکہ لے لیا ہے۔ یہاں کا ٹھیکہ کب اٹھاؤ گے۔اسکا جواب ہوتا کہ ابھی میرے پاس ٹائم ہے۔میں چاہتا ہوں کہ دوسرے علاقوں کی ترقی شروع ہوجائے پھر یہاں بھی بہت کچھ ہوجائے گا۔ ورنہ دنیا کہے گی کہ یہ بھی دوسروں جیسا ہے۔ہم اسکی یہ بات سن کر چپ ہوجاتے لیکن آپ کو بھی پتہ ہے کہ اسے کتنا وقت مل سکا۔
![]() | |
| اختیار علی ان لوگوں میں شامل تھے جنہوں نے بھٹو کی میت کو تابوت میں سے نکالا تھا |
لمبے چوڑے زیرِ تعمیر ہال میں یہ تحریر سنگِ مرمر کی جس قبر پر کندہ ہے۔اسکے سرھانے ایک نوجوان رحل پر قرآنِ پاک کھولے سورہ رحمان کی باآواز تلاوت کررہا ہے۔
اس قبر کو ذوالفقار علی بھٹو کے دادا میر مرتضی خان، والد سر شاہنواز خان، والدہ خورشید بیگم، اہلیہ امیر بیگم اور بیٹے میر مرتضی اور شاہنواز کی قبروں نے گھیرا ہوا ہے۔
غلام نبی جاروب کش نے بتایا کہ جب بے نظیر پہلی دفعہ وزیرِ اعظم بنیں اور بابا سائیں کے مزار کا کمپلیکس بنانے کا سوچا تو مسئلہ یہ تھا کہ اس قبرستان کے اردگرد جو گھر ہیں انکا کیا کیا جائے۔چنانچہ کوئی سو گھروں کے کنبوں کو ساری سہولتیں دے کر ایک نئی کالونی میں بسایا گیا جس میں میرا گھر بھی شامل ہے۔اور اب اس کمپلیکس کا رقبہ کوئی بیس ایکڑ کے لگ بھگ ہے تاکہ برسی کے دن آنے والوں کو تنگی نہ ہو۔
منٹھار علی کو دس برس پہلے ایک دن جانے کیا سوجھی کہ جامشورو یونیورسٹی کی ملازمت چھوڑ کر ذوالفقار علی بھٹو کے مزار کے صدر دروازے پر بیٹھ گیا اور پھول اور چادریں بیچنا شروع کردیں۔اس نے بتایا کہ برسی کے علاوہ بھی روزانہ کوئی نہ کوئی گروپ پنجاب اور سندھ کے مختلف علاقوں سے آتا رہتا ہے۔کئی لوگ نرینہ اولاد کی دعا مانگنے کے لیئے بھی حاضری بھرتے ہیں اور منت پوری ہونے پر دیگیں اور بکرے لے آتے ہیں۔ شادی شدہ جوڑے بھی آتے ہیں اور جن لڑکے لڑکیوں کی شادی نہیں ہوتی وہ بھی سائیں کی حاضری میں آتے ہیں۔
میں نے منٹھار علی سے کہا کہ تم نے ایک اچھے بھلے سوٹ ٹائی والے سیاستداں کو بعد ازمرگ پیر کا چوغہ پہنا دیا۔
سائیں ایسا نہ کہیں۔گناہ مت کمائیں۔ابھی مجھے بتائیں کہ ضیاالحق کی قبر پر بھی کیا کوئی منٹھار علی بیٹھا ہے۔ کیا وہاں بھی لوگ پھول لے کر اولاد اور شادی کی منت ماننے جاتے ہیں۔آپ کیسی بات کرتے ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔