http://bbc.com.im/urdu/

Tuesday, 04 April, 2006, 14:55 GMT 19:55 PST

مبشر زیدی
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

’مسئلہ کشمیر میں چین فریق نہیں‘

پاکستان نے کشمیری جماعتوں کے اتحاد کل جماعتی حریت کانفرنس کے سربراہ میر واعظ عمر فاروق کے اس بیان پر کہ چین کو بھی مسئلہ کشمیر میں فریق بنایا جائے کو رد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کی رو سے پاکستان اور بھارت ہی مسئلہ کشمیر کے فریق ہیں۔

پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے حریت کانفرنس کے رہنما میر واعظ عمر فاروق نے گزشتہ چند روز میں کئی انٹرویو دیئے ہیں، جن میں کہا گیا کہ کشمیر کا کچھ علاقہ چین کے پاس بھی ہے لہذا چین کو بھی مسئلہ کشمیر میں فریق بنایا جائے۔

تاہم پاکستانی دفتر خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم نے اسلام آباد میں ہفتہ وار بریفنگ میں کہا کہ انہوں نے میر واعظ کا بیان پڑھا ہے اور ان کے مطابق میر واعظ کا مقصد یہ تھا کہ کیونکہ چین اس خطے میں بہت زیادہ اثر و رسوخ رکھتا ہے لہذا اس کو مسئلہ کشمیر پر جاری بات چیت میں شریک کیا جائے۔

تاہم دفتر خارجہ کی ترجمان نے کہا کہ پاکستان پہلے بھی کہہ چکا ہے کہ مسئلہ کشمیر کے دو فریق ہیں جبکہ کشمیری بھی اس مسئلے کے فریق ہیں کیونکہ کشمیر کا مسئلہ ان کی حق خود ارادیت کا مسئلہ ہے۔

ایک سوال پر کہ امریکہ کو سارک تنظیم میں مبصر کی حیثیت سے شامل کرنے پر پاکستان کا کیا موقف ہے، ترجمان نے کہا کہ اس سلسلے میں فیصلہ اس وقت ہو گا جب امریکہ کی طرف سے کوئی باضابطہ درخواست دی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ فی الوقت سارک تنظیم میں چین اور جاپان کی بطور مبصر شمولیت کا فیصلہ ہو گیا ہے کیونکہ ان کی درخواستیں سارک تنظیم نے منظور کر لی ہیں۔

ترجمان نے امریکی اسسٹنٹ سیکریٹری رچرڈ باؤچر کے دورہ پاکستان کے بارے میں کہا کہ وہ وزیر خارجہ خورشید قصوری سے ملاقات کریں گے اور امکان ہے کہ وہ صدر جنرل پرویز مشرف سے بھی ملاقات کریں گے۔

ترجمان کے مطابق اس بات چیت میں امریکی صدر جارج بش کے دورہ پاکستان کے دوران ہونے والی بات چیت کو آگے بڑھانے پر مذاکرات ہوں گے۔

حریت کانفرنس کے سربراہ نے آج اسلام آباد میں وزیر اطلاعات شیخ رشید کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس سے بھی خطاب کیا جس میں انہوں نے کشمیر میں سیلف گورننس اور کشمیر کو غیر فوجی علاقہ بنانے کی صدر جنرل پرویز مشرف کی تجاویزکو سراہا اور کہا کہ ان تجاویز کی روشنی میں پاکستان اور بھارت کو بات چیت آگے بڑھانی چاہئے۔