Tuesday, 04 April, 2006, 17:18 GMT 22:18 PST
اعجاز مہر
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان کے سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی موت کو ستائیس برس ہوچکے ہیں لیکن بظاہر ایسا دکھائی دیتا ہے کہ فوج کے ذہن میں اب بھی ان کا خوف موجود ہے۔
اس بات کا اندازہ اس وقت ہوا جب بھٹو مرحوم کی ستائیسویں برسی کے موقع پر راولپنڈی کی ضلعی جیل کی اس جگہ پہنچا جہاں انہیں پھانسی دی گئی تھی اور اب عوام کے لیے پارک بن چکا ہے۔ وہاں پہنچنے پر فوجی اہلکاروں نے تصویریں بنانے سے روک دیا اور کیمرہ چھین لیا۔
پارک کے احاطے سے باہر کار پارکنگ میں جب میں نے ’سٹینڈ اپ‘ کرنا چاہا تو انہوں نے ریکارڈنگ کے آلات بھی چھینے اور کہا کہ اب تو کرنل صاحب کے پاس جانا ہوگا۔
ہوا یوں کہ صبح اطلاع ملی کہ پیپلز پارٹی کے تین درجن کے قریب کارکن، جن میں اکثریت خواتین کی تھی، حسب معمول راولپنڈی کی پرانی جیل کی جگہ جمع ہوں گے۔ جیل کے پھانسی گھاٹ کے مقام پر بینظیر بھٹو کی حکومت میں یادگار کے طور پر تین بڑے سنگ مرمر کے مینار بنا ئے گئے تھے۔ جب پیپلز پارٹی کے کارکن قرآن خوانی اور اپنے لیڈر کے ایصال ثواب کے لیے دعا کرنے وہاں پہنچے تو بھاری تعداد میں پہلے سے تعینات پولیس اور فوج نے انہیں اندر جانے سے روک دیا۔
فوج کے ایک سپاہی نے کہا ’دیکھیں جی ہمیں اوپر سے حکم ہے کہ کسی کو بھی آج پارک کے اندر آنے نہ دیا جائے اور کسی صحافی کو تصویر یا فلم بنانے کی اجازت نہ دی جائے‘۔
پارک کے ساتھ ہی واقع کرنل کے دفتر پہنچا تو ان کے سادہ کپڑوں میں ملبوس ملازم نے ہمیں ایک کمرے میں بٹھایا۔ کچھ دیر بعد جب کرنل نہیں آئے تو ان سے میں نے کہا کہ اگر انہیں دیر ہے تو میں واپس چلاجاتا ہوں۔ اس پر ملازم نے کہا کہ اب تو آپ کرنل سے ملے بنا واپس نہیں جاسکتے۔ میں نے کہا ایسا کیوں ہے تو انہوں نے کہا کہ دیکھیں فوج میں ’کیوں‘ نہیں ہوتا اور اس سے جھگڑا شروع ہوتا ہے۔
پھانسی گھاٹ اور جرنیلوں کی کوٹھیاں راولپنڈی کی اس پرانی جیل اور موجودہ پارک کے ایک طرف صدر مشرف کی موجودہ فوجی رہائش گاہ اور ’مری بروری‘ ہے تو دوسری جانب جھنڈا چیچی پل، جہاں صدر مشرف پر دو بار ناکام مگر خطرناک جان لیوا حملے ہوئے تھے۔ بھٹو کے پھانسی گھاٹ اور صدر مشرف کے حملے والی جگہ میں بہت ہی کم فاصلہ ہے۔ |
جب ان سے میں نے کہا کہ عوامی پارک کی تصویر بنانے پر پابندی کیوں ہے؟ تو انہوں نے کہا کہ یہ آرمی ایریا ہے کیونکہ یہ پارک بنانے کا کام فوج کر رہی ہے۔ انہوں نے اپنے کپتان سے کہا کہ ان کا کیمرہ چیک کریں کہیں تصویر تو نہیں بنائی۔ کپتان نے کیمرا لیا اور تصویریں چیک کیں اور کہا ’نہیں سر کوئی نہیں‘۔
اجازت ملی تو کرنل نے ہاتھ ملاتے ہوئے کہا ’ کیا رکھا ہے اس خبر میں ایک آدمی مرگیا، اب چھوڑیں‘۔ میں نے ان سے کہا کہ ہاں خبر میں تو کچھ نہیں لیکن آپ نے پابندیاں لگا کر خبر بنوادی۔
میں کرنل کے کمرے سے باہر نکلا تو اچانک خیال آیا کہ آخر کیا وجہ تھی ستائیس برس بعد بھی مرے ہوئے بھٹو کا خوف آج بھی ان فوجیوں کے سر پر سوار ہے۔
سردار سلیم گاڑی میں انتظار کر رہے تھے۔ واپسی پر انہوں نے بھٹو کے بارے میں کافی معلومات ہونے کا دعوٰی کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جب بھٹو کو مری میں قید رکھا گیا تھا اس وقت ضیاءالحق ان سے ملنے گئے تھے اور پیشکش کی تھی اگر فوج سے اقتدار اور اختیار ’شیئر‘ کرو تو تمہیں وزیراعظم بنا دیں گے۔
ان کے مطابق بھٹو نے ضیاءالحق سے اس ملاقات میں کہا تھا کہ یہ اقتدار عوام کی امانت ہے اور اس میں وہ خیانت نہیں کرسکتے۔
سردار سلیم نے چلتی گاڑی سے ہاتھ کا اشارہ کرتے بتایا کہ ضیاءالحق نے اس جیل کو توڑ کر پلاٹ بیچنے کا فیصلہ کیا تھا تاکہ بھٹو کی کوئی یادگار باقی نہ بچے۔ ان کے مطابق پیپلز پارٹی کے ایک مرحوم کارکن اقبال نے پھانسی گھاٹ والی جگہ کا پلاٹ خریدنے کا فیصلہ کیا تاکہ بعد میں وہاں کوئی یادگار تعمیر کرسکیں۔
پیپلز پارٹی کے اس بانی کارکن نے بتایا کہ بعد میں پلاٹوں کی الاٹمنٹ منسوخ کرکے بینظیر کے دور میں بھٹو پارک بنانے کا فیصلہ کیا گیا۔ جبکہ اس جیل کی کافی زمین جرنیلوں کی رہائش کے لیے محتض کردی گئی اور مرزا اسلم بیگ سمیت کئی جرنیلوں کے مکان اب اس جیل کی زمین پر موجود ہیں۔
راولپنڈی کی اس پرانی جیل اور موجودہ پارک کے ایک طرف صدر مشرف کی موجودہ فوجی رہائش گاہ اور ’مری بروری‘ ہے تو دوسری جانب جھنڈا چیچی پل، جہاں صدر مشرف پر دو بار ناکام مگر خطرناک جان لیوا حملے ہوئے تھے۔ بھٹو کے پھانسی گھاٹ اور صدر مشرف کے حملے والی جگہ میں بہت ہی کم فاصلہ ہے۔