Sunday, 02 April, 2006, 12:58 GMT 17:58 PST
عبدالحئی کاکڑ
پشاور
صوبہ سرحد کے زیرانتظام قبائلی علاقے لکی مروت سے چند روز قبل اغواء ہونے والے حکومت کے حامی دینی عالم مولانا ظاہر شاہ کی گولیوں سے چھلنی لاش آج قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں حکام کو ملی ہے۔
مقامی سرکاری ذرائع نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بی بی سی کو بتایا کہ اتوار کی صبح گیارہ بجے انہیں مولانا ظاہر شاہ کی لاش جنوبی وزیرستان میں سرہ روغہ کے مقام پر سڑک کے کنارے ملی جو ٹانک لا کر ان کے ورثاء کے حوالے کردی گئی۔
مولانا ظاہر شاہ کے کو تین دن قبل چند نقاب پوش مسلح افراد نے لکی مروت کے تاجوڑی علاقے سے اغواء کیا تھا۔ وہ تاجوڑی میں مقامی مسجد میں امام تھے اور قبائلی علاقوں میں حکومتی آپریشن کی حمایت کرتے تھے۔
اطلاعات کے مطابق مولانا ظاہر شاہ ایک غیر قانونی مقامی ساختہ ایف ایم اسٹیشن کے ذریعے جنوبی اور شمالی وزیرستان میں حکومت کے ساتھ برسر پیکار مبینہ مقامی طالبان کے خلاف تقاریر کرتےتھے۔
مولانا ظاہر شاہ کو کئی بار مبینہ طالبان کی طرف سے ان کے خلاف تقاریر سے باز رہنے کی دھکمیاں بھی دی گئی تھیں۔
مولانا ظاہر شاہ قتل کی ذمہ داری کسی نے قبول نہیں کی ہے اور نہ ہی حکومت نے کسی کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔
جنوبی اور شمالی وزیرستان میں سکیورٹی فورسز مبینہ شدت پسندوں کے خلاف آپریشن میں مصروف ہیں۔اس سے قبل بھی سو سے زیادہ حکومت یافتہ قبائلی عمائدین قتل ہوچکے ہیں جن کا شک مبینہ شدت پسندوں پر کیا جاتا ہے۔