Saturday, 01 April, 2006, 16:21 GMT 21:21 PST
اعجاز مہر
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ زلزلہ زدہ علاقوں میں تعمیر نو کا مرحلہ سات اپریل سے شروع کیا جائے گا اور تمام تباہ حال مکانوں کے مالکان کو رقوم لینے کے لیئے فارم بھی تقسیم کیے جائیں گے۔
یہ فیصلہ سنیچر کو صدر جنرل پرویز مشرف کی صدارت میں ہونے والے اجلاس میں کیا گیا جس میں وزیراعظم شوکت عزیز کے علاوہ کشمیر کے وزیراعظم، صوبہ سرحد کے وزیراعلیٰ اور زلزلے سے بحالی اور تعمیر نو کے متعلق ادارے کے سربراہ کے علاوہ دیگر سینئر حکام شریک ہوئے۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ سات اپریل سے مکانوں کے معاوضوں کے حصول کے لیئے جو فارم جاری ہوں گے وہ دس روز کے اندر جمع کراکے متاثرین رقوم حاصل کر سکتے ہیں۔
اجلاس کے بارے میں جاری کردہ بیان میں بتایا گیا ہے کہ کلی طور پر تباہ ہونے والے مکان کے مالک کو پچھہتر ہزار جبکہ جزوی طور پر تباہ مکان کے لیئے پچاس ہزار روپے کی قسط جاری ہوگی۔
صدر جنرل پرویز مشرف نے بالا کوٹ کے مکینوں کےلیئے فوری مناسب جگہ کا انتخاب کرنے کے لیئے وزیراعلیٰ سرحد اکرم درانی کو ہدایت کی اور کہا کہ نئی جگہ پر زلزلے سے محفوظ مکانات والا ماڈل سٹی تعمیر کیا جائے۔
واضح رہے کہ بالا کوٹ کے متعلق ماہرین نے کہا ہے کہ وہاں ’فالٹ لائنیں ایک تو بہت زیادہ ہیں اور دوسرا وہ آڑی اور ترچھی ہیں‘۔ ان کے مطابق ایسی صورتحال کی وجہ سے جس جگہ یہ شہر آباد تھا وہاں کم لاگت میں محفوظ تعمیرات ممکن نہیں ہیں۔
اجلاس میں ’فیڈرل ریلیف کمیشن‘ کا ادارہ ختم کرنے اور اس کا ایک سیل، بحالی اور تعمیر نو کے متعلق ادارے میں قائم کرنے کی باضابطہ منظوری بھی دی گئی۔ صدر نے یتیموں، بیواؤں، معذوروں اور انتہائی ضرورت مند افراد کو چھ ماہ تک ماہانہ تین ہزار روپے کی امداد دینے کی بھی منظوری دی۔