Friday, 31 March, 2006, 13:17 GMT 18:17 PST
افغانستان کے حکام نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ گزشتہ ہفتے سولہ پاکستانیوں کو برسوں پرانی قبائلی رنجش کی وجہ سے ایک مقامی کمانڈر کے حکم پر ہلاک کیا گیا تھا۔
اب تک افغانستان کی وزارت خارجہ یہ کہتی رہی تھی کہ ہلاک ہونے والے افراد طالبان تھے۔ پاکستان نے افغان وزارت خارجہ کی اس وضاحت کو مسترد کردیا تھا۔
کابل میں اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر افغان حکام نے کہا ہے کہ ہلاک کیے جانے والے سولہ افراد کو اغوا کرکے پاکستان کی سرحد کے پاس لاکر ہلاک کردیا گیا۔
افغان حکام کا کہنا ہے کہ ہلاکتوں کی وجہ برسوں پرانی قبائلی رنجش ہے۔ ان ہلاکتوں پر گزشتہ ہفتے اسلام آباد میں افغان سفیر کو دفتر خارجہ طلب کرکے احتجاج درج کرایا گیا۔
اس وقت افغان سرحدی فورس کے کمانڈر عبدالرزاق نے کہا تھا کہ سرحدی شہر سپن بلدک میں پاکستانی ایک مسلح جھڑپ میں مارے گئے۔ لیکن ایک اعلیٰ اہلکار نے اس کی تردید کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستانیوں کو بےرحمی سے مار دیا گیا۔ کمانڈر عبدالرزاق افغان پولیس کی حراست میں ہیں اور اس واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔
پاکستان کے دفترِ خارجہ نے کمانڈر عبدالرزاق کی گرفتاری کا خیرمقدم کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ اس کیس کے مکمل نتائج آنے تک اس پر نظر رکھے گا۔
افغان حکام نے اب بی بی سی کو بتایا ہے کہ ہلاک ہونے والے سولہ پاکستانی در حقیقت ایک شخص کے مہمان کی حیثیت سے کابل میں موجود تھے جس کے شمالی اتحاد سے گہرے تعلقات بتائے جاتے ہیں۔
افغان حکام کا کہنا ہے کہ اس شخص نے اپنے ان پاکستانی مہمانوں کو پیسے کے بدلے میں کمانڈر عبدالرزاق کے حوالے کردیا۔ کابل سے ان افراد کو لینڈ کروزر میں سپن بلدک لےجاکر ہلاک کردیا گیا۔
انہوں نے یہ بھی بتایا ہے کہ ان افراد کے ہاتھ باندھ دیے گئے تھے اور انہیں ایک میٹر کے دوری سے گولی مارکر ہلاک کردیا گیا۔ افغان حکام کا کہنا ہے کہ کمانڈر عبدالرزاق ان افراد کو اس لیے ہلاک کرنا چاہتے تھے کیوں کہ ان میں سے کچھ چند سال قبل ان کے بھائی کے قتل میں ملوث تھے۔