Friday, 31 March, 2006, 15:04 GMT 20:04 PST
ریاض سہیل
بی بی سی اردو ڈاٹ کام ،کراچی
سندھ ہائی کورٹ نے فرقہ وارنہ دہشت گردی کے ایک اور مقدمے میں کالعدم شدت پسند تنظیم لشکر جھنگوی کے سربراہ اکرم لاہوری اور ان کے تین ساتھیوں کو باعزت بری کردیا ہے۔
ملزمان پر الزام تھا کہ انہوں نے اکتوبر دو ہزار ایک کو کراچی کے علاقے محمود آباد میں امام بارگاہ علی المرتضیٰ میں داخل ہوکر فائرنگ کی، جس میں چھ افراد ہلاک اور پانچ زخمی ہوگئے تھے۔
اس مقدمے میں انسداد دہشت گردی کی عدالت نے دو ہزار تین میں کو عطااللہ اور محمد اعظم کو سزائے موت جبکہ محمد اجمل عرف اکرم لاہوری اور تصدق حسین کو عمر قید کی سزا سنائی تھی۔
عدالت کے اس فیصلے کے خلاف ملزمان نے ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی تھی۔ جمعہ کو جسٹس رحمت جعفری اور جسٹس افضل سومرو پر مشتمل اپیلٹ بنچ نے ملزمان کو باعزت بری کر دیا۔
واضح رہے کہ فرقہ وارنہ دہشت گردی کے واقعات میں ملوث اکرم لاہوری کو انتیس جون دو ہزار کو ان کے چار ساتھیوں سمیت گرفتار کیا گیا تھا۔
سندھ اور پنجاب کی پولیس نے اکرم لاہوری کی گرفتاری پر پانچ پانچ ملین روپے انعام مقرر کیا تھا۔
اکرم لاہوری پر کراچی میں پاکستان سٹیٹ آئل کے منیجنگ ڈائریکٹر شوکت مرزا کے قتل سمیت فرقہ ورانہ دہشت گردی کے سات مقدمات درج تھے۔
ان مقدمات میں سے انسداد دہشت گردی کی عدالت نے شوکت مرزا اور امام بارگاہ محفل زینب میں سکیورٹی گارڈ کے قتل کے مقدمے سے اسلم لاہوری کو پہلے ہی بری کر دیا ہے۔
انسداد دہشت گردی کی ایک اور عدالت نے انہیں ڈاکٹر آل صفدر کے قتل کے الزام میں سزائے موت سنائی تھی جس میں ان کی اپیل منظور کرتے ہوئے ہائی کورٹ کی اپیل بنچ نے انہیں بری کردیا تھا۔