Tuesday, 28 March, 2006, 10:27 GMT 15:27 PST
عدنان عادل،
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
لاہور ہائی کورٹ نے صدر جنرل پرویز مشرف پر سنہ دو ہزار تین میں ہونے والے ناکام قاتلانہ حملے میں ملوث ائر فورس کے چار اہلکاروں کو سنائی جانے والی سزائے موت کے خلاف اپیلیں مسترد کردی ہیں۔
سزا پانے والے ائر فورس کے چار اہلکاروں میں چیف ٹیکنیشن خالد محمود، کارپورل ٹیکنیشن نوازش علی، جونیئر ٹیکنیشن نیاز محمد اور جونیئر ٹیکنیشن عدنان رشید شامل ہیں۔
ان افراد کی اپیلوں پر منگل کی صبح لاہور ہائی کورٹ آفس نے یہ اعتراض کیا تھا کہ فوجی عدالت کے خلاف اپیلوں کی سماعت ہائی کورٹ میں نہیں ہوسکتی لیکن جج نے یہ اعتراض رد کردیا تھا اور ان کی ابتدائی سماعت کی۔
سزا پانے والے چار ملزموں کے وکیل کرنل ریٹائرڈ اکرم نے ہائی کورٹ میں کہا کہ ان ملزموں کے خلاف براہ راست شہادتیں نہیں ہیں اور ان سے اعترافی بیانات ایک ماہ کی تاخیر سے لیے گئے جو قانون کے مطابق ٹھیک نہیں۔
وکیل صفائی نے ہائی کورٹ سے یہ بھی کہا کہ فوجی عدالت نے ملزموں کو سزا کا فیصلہ سنانے کے بعد انہیں عدالتی کارروائی کی نقل مہیا نہیں کی بلکہ صرف اسے پڑھنے کا موقع دیا گیا۔
ان اہلکاروں کو فوجی عدالت کے حکم کے مطابق منگل اٹھائیس مارچ کو پھانسی دی جانی تھی۔
تاہم ان کے وکیل کرنل ریٹائرڈ اکرم نے ہائی کورٹ میں بتایا کہ ابھی تک انہیں پھانسی دیے جانے کے عمل کا آغاز نہیں ہوا جس کے تحت پھانسی پانے والوں کی ان کے لواحقین سے ملاقات کرائی جاتی ہے۔
چودہ دسمبر انیس سو تین کو راولپنڈی میں ایک پل کو دھماکہ خیز مواد سے اڑا کر صدر پرویز مشرف کو قتل کرنے کے الزام میں فوجی عدالت نے ائر فورس کے چھ اہلکاروں سمیت سات ملزموں کو سزا سنائی تھی۔ صدر مشرف کی گاڑی دھماکہ سے چند لمحے پہلے گزرنے کی وجہ سے بچ گئی تھی۔
ان میں سے ائر فورس کے دو اہلکاروں کرم داد اور نصراللہ کو عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ ایک ملزم مشتاق احمد ائر فورس کے سویلین ملازم تھے جن کی اپیل سپریم کورٹ میں زیرالتوا ہے۔