Tuesday, 28 March, 2006, 06:17 GMT 11:17 PST
عدنان عادل
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
ان دنوں صدر جنرل پرویز مشرف عوامی اجتماعات سے خطاب کررہے ہیں۔ یہ ان کے دور اقتدار کی چوتھی رابطہ عوام مہم ہے۔
اس سے پہلے وہ صدارتی ریفرنڈم، عام انتخابات اور گزشتہ مقامی انتخابات کے موقعوں پر بھی ایسے جلسوں سے خطاب کرچکے ہیں۔
تئیس مارچ کو لاہور میں مینار پاکستان کے سبزہ زار میں مسلم لیگ نے اپنی صد سالہ تقریبات منانے کےلیے کارکنوں کا کنوینشن منعقد کرنے کا اعلان کیا تھا۔
اس جلسے کے راستے میں جگہ جگہ پنجاب کے وزیراعلیٰ پرویز الٰہی کی تصویروں کے بینرز لگے ہوئے تھے۔
حکومت کے زیر انتظام اس جلسہ میں جنرل مشرف اچانک پہنچ گئے۔ پہلے سے ان کے خطاب کا اعلان نہیں کیا گیا تھا۔ شاید صدر مشرف کی سلامتی اور حفاظت کی خاطر ایسا کیا گیا۔
مینار پاکستان پر مسلم لیگ کے رہنما صوبہ بھر سے جن لوگوں کو بسوں میں بھر بھر کر لائے تھے انہیں پنڈال میں بھیجنے سے پہلے میٹل ڈٹیکٹر سے ان کی تلاشی لی گئی۔
ہزاروں لوگوں کو تلاشی کے بعد جلسہ گاہ میں بھیجنا ایک بڑا انتظامی کام تھا جسے بہرحال انجام دیا گیا۔ اس کے باوجود صدر مشرف نے بلٹ پروف سٹیج سے خطاب کیا۔
تاہم پچیس مارچ کو جہلم میں عوامی جلسے کے لیے پہلے سے اعلان کردیا گیا تھا کہ صدر مشرف وہاں خطاب کریں گے۔ پنجاب میں کیے گئے ان دونوں جلسوں میں صدر پرویز مشرف نے دو تین نکات پر خاص زور دیا۔
![]() | |
| صدر مشرف نے بعض سیاسی رہنماؤں کو تنقید کا نشانہ بنایا |
صدر مشرف نے ملک سے باہر موجود سیاسی رہنماؤں جیسے نواز شریف کا نام لیئے بغیر انہیں زبردست نشانہ بنایا۔ خاص طور سے سابق وزیراعظم نواز شریف کی طرف ان کا لب و لہجہ جارحانہ تھا جو اس بات کا اشارہ ہوسکتا ہے کہ چند ماہ پہلے سرکاری مسلم لیگ اور مسلم لیگ (ن) کے اتحاد کے لیے ہونے والی
پس پردہ کوششیں کسی مثبت نتیجہ پر نہیں پہنچ سکیں۔
صدر نے اپنے جلسوں میں کہا کہ ملک سے باہر بیٹھے ہوئے رہنما ٹیلی فون پر لوٹ مار اور ہنگامہ آرائی کرنے والوں سے بات چیت کرتے ہیں اور انہیں مبارکباد دیتے ہیں۔ اُن کا اشارہ سابق وزیراعظم نواز شریف کی جانب تھا جنہوں نے چودہ فروری کے ہنگاموں کے بعد اپنی پارٹی کے گرفتار ہونے والے رہنماؤں سے بات چیت کی تھی۔
صدر مشرف نے ان دونوں جلسوں میں متنازعہ کالاباغ ڈیم سمیت ایک سے زیادہ پانی کے ذخائر بنانے کا وعدہ کیا۔ پنجاب میں کالاباغ ڈیم اور آبی ذخائر کی تعمیر کو صوبہ کے مفاد میں سمجھا جاتا ہے۔
صدر پرویز مشرف انتخابات کے موقعوں (جیسے ریفرنڈم، عام انتخابات، مقامی انتخابات وغیرہ) پر ووٹنگ سے پانچ چھ ماہ پہلے سرگرم ہوجاتے ہیں۔
![]() | |
| حکومت صدر کے لیے جلسوں کا اہتمام کرتی ہے |
اگلے سال اکتوبر تک ملک میں عام انتخابات متوقع ہیں۔ اس لیے بہت سے لوگ صدر مشرف کے ان تازہ جلسوں کو اسی تناظر میں دیکھ رہے ہیں۔ ان کا لہجہ بھی ایک سیاسی لیڈر جیسا ہے۔ اپنے مخالفین پر تنقید اور حکومت کے ترقیاتی کاموں کے کارناموں کا بیان۔
لاہور کے جلسے میں وزیراعظم شوکت عزیز نے کہا تھا کہ مسلم لیگ کےکارکن صدر مشرف کے مجاہد ہیں اور مسلم لیگ کے صدر شجاعت حسین کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت صدر مشرف کی ٹیم ہے۔
اس جلسہ میں وزیر اعلیٰ پنجاب کی تحریک پر یہ قرارداد بھی منظور کی گئی کہ صدر مشرف فوج کے سربرارہ اور صدر کے دونوں عہدے اپنے پاس رکھیں۔
حکومتی مسلم لیگ کے صدر شجاعت حسین پہلے یہ بیان دے چکے ہیں کہ موجودہ اسمبلیاں بھی جنرل مشرف کو دوسری بار صدر منتخب کرسکتی ہیں اور یہ کہ عام انتخابات ایک سال کے لیئے ملتوی بھی ہوسکتے ہیں۔
حزب مخالف کا کہنا ہے کہ آئین کے تحت صدر مشرف سنہ دو ہزار سات تک ان میں سے ایک عہدہ چھوڑنے کے پابند ہیں۔
سرکاری پارٹی کی جانب سے بار بار صدر مشرف کے وردی میں رہنے کا تذکرہ پرویز مشرف کی اجازت کے بغیر نہیں ہوسکتا۔
قانونی طور پر صدر مشرف کو دوبارہ صدر منتخب کرانے کے لیئے قومی اسمبلی اور چاروں اسمبلی میں حکومتی پارٹی کو اکثریت حاصل کرنا لازمی ہوگا۔ انہیں صدر اور آرمی چیف کے عہدوں کی خاطر قومی اسمبلی اور سینٹ کو آئین میں ترمیم کرنا ہوگی جس کے لیے دو تہائی اکثریت کی ضرورت ہوگی۔
تاہم ماضی کے عام انتخابات کو دیکھتے ہوئے یہ پوچھا جاسکتا ہے کہ صدر مشرف کو اپنا ہدف حاصل کرنے کے لیے کیا واقعی جلسے کرنے کی ضرورت ہے؟۔