Friday, 24 March, 2006, 19:26 GMT 00:26 PST
ذوالفقار علی
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، مظفرآباد
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں زلزے سے متاثرہ خیمہ بستیوں میں آباد پہاڑی علاقوں کے کچھ اور خاندان جمعہ کو اپنے آبائی علاقوں میں واپس چلے گئے۔ واپسی کا آغاز مارچ کے دوسرے ہفتے میں ہوا تھا جب تیس خاندان اپنے گھروں کو واپس چلے گئے تھے۔
اگرچہ حکومت یہ کہتی آرہی تھی کہ واپسی کا عمل اکتیس مارچ سے شروع ہوگا لیکن اس عمل کا مارچ کے اوائل میں آغاز موسم میں قدرے بہتری کی وجہ سے ممکن ہوا ہے اور حکومت بھی اس کی حوصلہ افزائی کرتی ہے جس کا بظاہر مقصد دیگر افراد کو بھی واپسی کے لئے تیار کرنا ہے۔
آٹھ اکوبر کے زلزے کے باعث کشمیر کے متاثرہ پہاڑی علاقوں کے ہزاروں لوگوں نے پاکستان اور اس کے زیر انتظام کشمیر کے شہروں، قصبوں اور میدانی علاقوں کا رخ کیا جہاں ان کو خیمہ بستیوں میں آباد کیا گیا تھا۔ موسم میں بہتری اور کھیتی باڑی کا موسم شروع ہوتے ہی لوگوں نے آہستہ آہستہ اپنے علاقوں کی طرف واپس جانا شروع کیا ۔
واپس جانے والے لوگ خیموں سے لے کر اپنے استعمال میں رہنے والی تمام چیزیں ساتھ لے جاسکتے ہیں۔ آج اپنےگھروں کو واپس جانے والوں کو حکومت کی طرف سے اعلان کے مطابق ایک ماہ کی خوراک کے ساتھ ساتھ بستر اور کمبل بھی فراہم کئے گئے ہیں اور وہ اپنے استعمال میں رہنے والی تمام چیزیں جن میں خیمے شامل ہیں ساتھ لے گئے۔
واپس جانے والوں میں چار بیوائیں بھی تھی جن کو ایک ایک سلائی مشین بھی دی گئی تا کہ وہ اپنی روزی کا بندوبست کرسکیں ۔ یہ خیمہ بستی مظفرآباد سے کوئی دس کلومیڑ کے فاصلے پر ٹنڈالی میں واقع ہے اور اس کا انتظام اور انصرام ایک جاپان کی غیر سرکاری تنظم ’جیڈ‘ چلاتی ہے۔
![]() | |
| واپس لوٹنے والے متاثرین کو خیموں سمیت اپنے استعمال کی تمام اشیا ساتھ لے جانے کی جازت ہے |
اس خیمہ بستی میں اب بھی کوئی ڈھائی سو خاندان آباد ہیں۔ اس بستی کو چلانے والی تنظیم کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ ڈیڑھ سو کے قریب ایسے خاندان ہیں جو اس لئے واپس جانے کے لئے تیار نہیں کیوں کہ ان کے علاقوں کو جانے والے راستے بند ہیں یا زلزے میں ان کی زمینیں تباہ ہوگئی ہیں یا ان کے علاقوں میں پانی کا مسئلہ درپیش ہے۔
حکومت کا کہنا ہے خیمہ بستیوں میں دس سے بارہ ہزار افراد ایسے ہوں گے جن کی زمینیں زلزے میں ضائع ہو گئی ہیں یا ان کو اپنے علاقوں میں پانی کا مسئلہ ہے ۔
حکومت کہتی ہے کہ یہ لوگ اس وقت تک خیمہ بستیوں میں ہی رہیں گے جب تک ان کو کوئی متبادل زمینیں فراہم نہیں کی جاتیں۔ لیکن ان بستیوں میں رہنے والے بہت سارے لوگوں کو یہ شکایت ہے کہ ان کی آباد کاری کے بارے میں حکومت کی کوئی واضح پالیسی نہیں ہے اور اس لیئے ان کے پاس اپنے علاقوں کو واپس لوٹنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے ۔
پاکستان اور اس کے زیر انتظام کشمیر کے شہروں میں خیمہ بستیوں میں تقریباً سوا لاکھ زلزلہ متاثرین آباد ہیں جن میں ایک بہت بڑی تعداد پہاڑی علاقوں میں بسنے والوں کی ہے۔
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ اپریل تک خیمہ بستیوں میں آباد پہاڑی علاقوں کے نوے فیصد لوگوں کی واپسی اور ان کی دوبارہ آباد کاری کا عمل مکمل کرلے گی۔