http://bbc.com.im/urdu/

Friday, 24 March, 2006, 10:03 GMT 15:03 PST

صلاح الدین
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دلی

منموہن کی امن معاہدے کی تجویز

ہندوستان کے وزیراعظم منموہن سنگھ نےشدت پسندی اور سخت گیریت سے سے نمٹنے کے لیے پاکستانی صدر پرویز مشرف کے موقف کی تعریف کی ہے۔

پاکستان نے من موہن سنگھ کی تجویز کا خیر مقدم کیا ہے

امرتسر اور ننکانہ صاحب کے درمیان بس سروس کا افتتاح کرتے ہوئے منموہن سنگھ نے کہا ہے کہ وہ کشمیر سمیت تمام متنازعہ مسائل کے عملی حل کے لیے تیار ہیں۔

کشمیر بس سروس پر خصوصی ضمیمہ

منموہن سنگھ نے کہا کہ امن کے قیام اور عمل کے بارے میں دونوں ملکوں کی رائے ایک ہے اور پاکستان کے صدر نے شدت پسندی سے نمٹنے کے لیے کافی اقدامات کیۓ ہیں لیکن ’دونوں ملکوں کی بھلائی کے لیے ابھی بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے‘۔

منموہن سنگھ نے مزید کہا کہ سرکریک ، سیاچن اور بگلیہار کے مسئلوں پر پاکستان کے ساتھ بامعنی معاہدے کابھی امکان ہے۔

انہوں نے کہا ديگر متنازعہ مسائل کوجموں کشمیر کے حل کے ساتھ وابستہ کرنا درست نہیں ہے اور وہ کشمیر مسئلے کے عملی حل کے لیے بات چیت سےڈرتے نہیں ہیں۔

’ہم نے اکثر کہا ہے کہ سرحدوں کی ازسرنو حد بندی نہیں ہوسکتی لیکن ہم ایسا کام کرسکتے ہیں جس سے سرحدوں کی اہمیت نہ رہے اور وہ صرف نقشے پرچند خطوط بن کر رہ جائیں اور اور دونوں جانب کے کشمیری عوام میں آزادانہ آمد و رفت ہو اور تجارتی روابط بڑھیں‘۔
امرتسر۔ننکانہ بس سروس
سکیورٹی اہلکاروں کی موجودگی میں عملہ بس کو سجا جا رہا ہے

انہوں نے ہندوستان اور پاکستان کے درمیان ایک مستقل امن معاہدے کی بھی تجویز رکھی اور کہا کہ ’دونوں ملکوں میں امن کا موجودہ عمل بلندیوں پر پہنچ کر باہمی امن، سیکیورٹی اور دوستی کے ایک ایسے معاہدے میں شامل ہو سکتا ہے جس سے دونوں کے مشترکہ مقاصد پروان چڑھ سکیں‘۔

امرستر اور ننکانہ صاحب کے درمیان بس سروس کی افتتاحی تقریب میں انہوں نے کہا کہ بس کے آغاز کے موقع پر وہ امرتسر میں ہونے پر بہت خوش ہیں اور یہ پنجاب کے لیے ایک اور یادگار دن ہے۔

اس بس میں تقریبا چالیس مسافر سوار ہیں جس میں زیادہ تعداد ریاستی وزیروں اور سرکاری اہلکاروں کی ہے۔

پاکستان کے پنجاب میں ننکانہ صاحب اور بھارت کے پنجاب میں امرتسر کے درمیان صرف ایک سو تیس کلومیٹر کا فاصلہ ہے اور مذہبی اعتبار سے سکھ برادری کے لیےان دونوں شہروں کی بڑی اہیت ہے۔

بڑی تعداد میں سکھ برادری ننکانہ صاحب کی زیارت کے لیے جاتی ہے لیکن نقل و حمل کا کوئی مستقل بندوبست نا ہونے کے سبب مسافروں کو کافی دشواریاں اٹھانی پڑتی تھیں۔گزشتہ کافی عرصے سے دونوں شہروں کے درمیان بس چلانے کا مطالبہ ہورہا تھا اور دونوں ملکوں نے دس مارچ کو پہلی بس چلانے کا فیصلہ کیا تھا لیکن بعض تکنیکی وجوہات کی بنا پر اس سروس کو جمعہ سے شروع کیا گیا ہے۔