اعجاز مہر
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان کے شورش زدہ علاقوں میں چاہے شمالی وزیرستان ہو یا بلوچستان وہاں جاری سکیورٹی فورسز کے آپریشن روکنے کے بارے میں ِاس وقت بظاہر ایسا لگتا ہے کہ حکومت متعلقہ قبائل کے نمائندوں سے بات چیت کرنے سے گریز کر رہی ہے۔
رواں ہفتے میں کم از کم تین بار وزیر داخلہ آفتاب احمد شیر پاؤ پارلیمان، پریس کانفرنس اور قبائلی جرگے سے ملاقات میں واضح طور پر کہہ چکے ہیں کہ حکومت سکیورٹی فورسز پر حملہ کرنے والوں سے بات چیت نہیں کرے گی۔
کچھ عرصہ قبل ایسا لگتا تھا کہ حکومت بات کرنا چاہتی تھی اور وزیرستان اور بلوچستان کے قبائل کے سربراہ مذاکرات سے گریزاں تھے اور اپنی شرائط منوانے پر بضد تھے لیکن اب ایسا لگتا ہے کہ حکومت کا پلڑا بھاری ہے اور وہ اپنی شرائط منوانا چاہتی ہے۔
بظاہر ایسا دکھائی دیتا ہے کہ معاملہ اس بات پر اٹکا ہوا ہے کہ حکومت چاہتی ہے کہ ’شرپسند‘ پہلے ہتھیار پھینک دیں پھر بات چیت ہوگی۔ لیکن متعلقہ قبائل کہتے ہیں کہ فائر بندی کے لیے بات چیت ہونی چاہیے اور یکطرفہ ایسا نہیں کیا جاسکتا۔
حکمران مسلم لیگ کے مرکزی جنرل سیکریٹری سید مشاہد حسین نے گزشتہ اتوار کو پریس کانفرنس کر کے مطالبہ کیا کہ بلوچستان اور وزیرستان کے معاملات طاقت کے بجائے بات چیت سے حل کریں۔
بظاہر جب حکومت اور حزب اختلاف کی جماعتیں پارلیمانی سطح پر بلوچستان اور وزیرستان کا مسئلہ بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی خواہاں ہیں تو پھر دیر کس بات کی۔ بعض تجزیہ کار کہتے ہیں کہ اس وقت تو انہیں لگتا ہے کہ اہم امور کے بارے میں فیصلے پارلیمان کے بجائے کہیں اور ہوتے ہیں اور صدر مشرف کی متعارف کردہ حقیقی جمہوری حکومت صرف دکھاوے کی ہے۔
![]() | |
| حزب اختلاف کے مطابق آپریشن میں سکیورٹی فورسز کے چھ سو سے زیادہ اہلکار مارے گئے ہیں |
چودھری شجاعت حسین نے تو اتنا بھی کہا کہ متعلقہ علاقے میں کارروائی کے دوران کچھ عام لوگ بھی مرے ہیں جس پر انہیں افسوس ہے۔ لیکن ان کے مطابق کیونکہ اس علاقے میں غیر ملکی شدت پسند ہیں اور وہ حکومتی فورسز پر حملے کرتے ہیں اس لیے کارروائی ہو رہی ہے۔
چودھری شجاعت حسین نے جرگے سے بات چیت کے دوران کہا کہ جب وہ چند ماہ کے لیے وزیراعظم بنے تھے تو انہوں نے قبائل سے کہا تھا کہ وہاں موجود غیر ملکی اگر اپنا اندراج کرا دیں اور ان میں سے جو مقامی قبائل میں شادیاں کرچکے ہیں انہیں حکومت وہاں رہنے دے گی۔ لیکن انہوں نے کہا کہ ایسا نہیں ہوسکا۔
پارلیمان میں بحث کے دوران حزب مخالف کے اراکین نے کہا تھا کہ انگریزوں کے دور میں نوے برسوں میں بھی اتنے قبائلی لوگ نہیں مرے جتنے گزشتہ تین برسوں سے شمالی اور جنوبی وزیرستان میں ہلاک ہوئے۔ ان کے مطابق سکیورٹی فورسز کے چھ سو سے زیادہ اہلکار مارے جاچکے ہیں۔
گزشتہ دو برسوں کے دوران وزیرستان میں وقت بہ وقت مقامی شدت پسند طالبان قبائلی سرکردہ رہنماؤں کو دھمکیاں دیتے رہے کہ وہ حکومتی اہلکاروں سے ملاقات نہ کریں بصورت دیگر انہیں قتل کردیا جائے گا۔ اور اس عرصہ میں جمیعت علماء اسلام کے مقامی رہنما مولانا اسداللہ کے مطابق ایک سو کے قریب مقامی قبائلی عمائدین کو قتل کردیا گیا۔
شدت پسندوں کی اب تک کی اس ضمن میں آخری دھمکی چند ہفتے قبل اس وقت سامنے آئی جب شمالی وزیرستان کے عمائدین کا ایک وفد صوبہ سرحد کے گورنر اور صدر مشرف سے ملاقات کر رہا تھا۔ لیکن اب کھل کر جس طرح متعلقہ علاقے کے علماء، منتخب نمائندے اور قبائلی عمائدین حکومتی نمائندوں سے ملاقاتیں کر رہے ہیں اس سے لگتا ہے کہ شدت پسندوں کی گرفت کم ہو رہی ہے اور حکومتی اثر رسوخ بڑھ رہا ہے۔
حکومت اور قبائلیوں کے درمیان آئے روز ملاقاتوں اور رابطوں کے باوجود بھی حکومت آپریشن بند کرکے مذاکرات شروع کرنے کے لیے تیار دکھائی نہیں دیتی۔
مقامی عمائدین کا دعویٰ ہے کہ اگر اس نازک وقت میں حکومت نے انہیں اعتماد میں نہیں لیا تو حالات کی خرابی کی ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی اور متاثرہ قبائل میں حکومتی فورسز کے خلاف نفرت میں اضافہ ہوسکتا ہے۔