http://bbc.com.im/urdu/

Wednesday, 22 March, 2006, 14:28 GMT 19:28 PST

عزیزاللہ خان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

بلوچستان: دھماکے، تین بچے زخمی

کوہلو کے علاقے کاہان کے مضافات میں سکیورٹی فورسز اور مسلح قبائلیوں کے مابین جھڑپوں کی اطلاعات ملی ہیں جبکہ جعفر آباد میں ایک بم دھماکے میں تین بچے زخمی ہو گئے ہیں۔

کاہان سے مقامی لوگوں نے بتایا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے بدھ کو ایک مرتبہ پھر ہوائی حملے کیے ہیں اور ہیلی کاپٹر سارا دن فضا میں گشت کرتے رہے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق ان حملوں میں ایک جھونپڑی تباہ ہوگئی جس میں ایک عورت اور ایک بچی زخمی ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ تراتانی، نساؤ اور ڈاہو کے مقامات پر سکیورٹی فورسز اور مقامی قبائلیوں کے مابین جھڑپیں ہوئی ہیں لیکن کسی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

صوبائی حکومت کے ترجمان رازق بگٹی نے ان واقعات کے بارے میں لاعلمی کا اظہار کیا ہے تاہم انہوں نے بتایا ہے کہ منگل کی شام کو فوجیوں کی ایک گاڑی گوڑی کے مقام پر بارودی سرنگ سے ٹکرا گئی جس سے پانچ اہلکار زخمی ہوگئے۔

ادھر بلوچستان کے علاقے جعفر آباد میں دھماکے سے تین بچے زخمی ہوئے ہیں۔
جعفر آباد پولیس کے اہلکار کے مطابق یہ واقعہ گوٹھ محمد عظیم کے مقام پر پیش آیا۔ مقامی صحافی ہاشم بلوچ نے بتایا ہے کہ راستے پر پڑا ہوا ایک بم پھٹنے سے دو بچے شدید زخمی ہوئے ہیں اور ایک کو معمولی چوٹیں آئی ہیں۔

منگل کی رات کو ہی سبی ہرنائی سیکشن پر بجلی کے ایک کھمبے کو دھماکہ خیز مواد سے اڑا دیا گیا۔ واپڈا کے ترجمان جبریل خان نے کہا ہے کہ تین روز پہلے اڑاِئے گئے کھمبے اور اب اس واقعہ کے بعد بلوچستان کو بجلی کی سپلائی میں چار سو میگا واٹ کی کمی واقع ہوئی ہے اور اس وجہ سے اب کوئٹہ سمیت دیگر شہری علاقوں میں بھی لوڈشیڈنگ کی جا رہی ہے۔