http://bbc.com.im/urdu/

Thursday, 16 March, 2006, 14:09 GMT 19:09 PST

ہارون رشید
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

’وزیرستان، طالبان نہیں امن کمیٹی‘

حکومتِ پاکستان نےقبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں مقامی عمائدین اور علما کی جانب سے امن و امان کی صورتحال کی بہتری کے لئے کمیٹی کے قیام کو سراہتے ہوئے اس تاثر کی نفی کی ہے کہ علاقے کے انتظامی امور مقامی طالبان نے سنبھال لئے ہیں۔

وزیرستان کی صورت حال پر خصوصی ضمیمہ

صوبائی دارالحکومت پشاور میں گورنر سرحد کے ایک ترجمان کی جانب سے جاری کیئے گئے وضاحتی بیان میں کہا گیا ہے کہ نہ تو دینی مدارس کے طلبہ نے اور نہ ہی نام نہاد طالبان نے کوئی دفتر کھولا ہے اور نہ اس قسم کے کسی دفتر کے کھولے جانے کا کوئی عمل جاری ہے۔

تاہم ترجمان نے بیان میں اس بات کا اعتراف ضرور کیا کہ علاقے کے ممتاز عمائدین اور ملکان پر مشتمل ایک امن کمیٹی قائم کی گئی ہے تاکہ بدامنی کی صورتحال سے نجات حاصل کی جاسکے۔ حکومت کے مطابق اس طرح کی کمیٹیاں کئی دیگر قبائلی علاقوں میں پہلے سے ہی قائم ہیں۔

ان کمیٹیوں کی مزید وضاحت کرتے ہوئے ترجمان کا کہنا تھا کہ انہیں مقامی زبان میں ’چلوشتی‘ یا ’چغہ‘ پارٹی کہا جاتا ہے۔ ان اصلاحی کمیٹوں کا بیان کے مطابق کام انتظامیہ کے ساتھ رسم و رواج کے مطابق امن و امن کی بہتری میں مدد دینا ہوتا ہے۔

حکومت کا کہنا ہے کہ ان کمیٹوں کا بڑا مقصد امن کا قیام اور معاشی ترقی کی خاطر انتشار پسند عناصر کو پرتشدد کارروائیوں سے باز رکھنے اور انتہا پسندانہ نظریات کو ترک کرنا ہے۔

ان کمیٹوں کے طریقہ کار کے بارے میں وضاحت کرتے ہوئے بیان میں کہا گیا ہے کہ کہ یہ امن کو خراب کرنے والے عناصر کو قانون کے حوالے کرنے میں مدد دیں گی جن پر مقامی انتظامیہ ہی قبائلی قانون ایف سی آر کے تحت کارروائی کرے گی۔

اسے ایک خوش آئند قدم قرار دیتے ہوئے، ترجمان کا کہنا تھا کہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ قبائلیوں نے اپنی ذمہ داری کا احساس کر لیا ہے۔