Thursday, 16 March, 2006, 12:20 GMT 17:20 PST
ذوالفقار علی
بی بی سی اردو ڈاٹ کام مظفرآباد
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں ملبہ ہٹانے کی کارروائی جاری ہے لیکن ماہر ماحولیات کا کہنا ہے کہ اس ملبے میں بھاری دھاتوں کی موجودگی کے باعث خاص طور پر بچوں کی صحت کے لئے خطرہ پیدا ہوسکتا ہے ۔
ماہر ماحولیات اس صورتحال کو ’چھوٹی تباہی‘ قرار دے رہے ہیں اور زلزے کے بعد پہلی بار اس معاملے پر توجہ دلائی گئی ہے ۔
متاثرہ علاقوں میں ٹنوں کے حساب سے موجود ملبے میں چند زہریلی دھاتیں موجود ہیں ۔ ان میں سیسہ ، لوہا اور زنک ہے اور ان میں سب سے زیادہ خطرناک دھات سیسہ ہے۔
ماہر ماحولیات بابر حسین منہاس کا کہنا ہے کہ اس ملبے میں زہریلی دھاتوں خاص طور پر سیسے کی بڑی مقدار میں موجودگی انسانی صحت خاص طور پر بچوں کے لئے مضر صحت ہو سکتی ہے۔
ملبے میں سیسے کی مقدار معلوم نہیں ہے کیونکہ کشمیر کے اس علاقے میں سیسے کو ٹیسٹ کرنے کی کوئی سہولت نہیں ہے لیکن ماہر ماحولیات کا کہنا ہے کہ یقینی طور پر یہ حفاظتی معیار کی حد سے زیادہ ہے۔
ماہر ماحولیات کا کہنا ہے کہ یہ بات ’ زلزے کے بعد ایک چھوٹی تباہی سے کم نہیں‘۔ ان کا کہنا ہے کہ اس کی طرف فوری توجہ دی جانی چاہیے ورنہ صورت حال بگڑ سکتی ہے۔
بابر حسین منہاس کا کہنا ہے کہ بچوں کو اس ملبے میں کھیلنے سے روکنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ ’اس کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ اس ملبے کو دریائے جہلم اور نیلم میں پھینکا جارہا جس کی وجہ سے ان دریاؤں میں مچھلیاں، پودے اور آبی پرندے سب خطرے میں ہیں، خاص طور پر منگلا جھیل میں مچھلیوں کی صنعت اور وہاں سائبیریا سے آنے والے آبی پرندوں کو بھی خطرہ لاحق ہے‘۔
حکام کا کہنا ہے کہ کیونکہ آٹھ اکتوبر کے زلزے کے باعث اتنی وسیع پیمانے پر تباہی ہوئی کہ ان کی پہلی ترجیح امدادی کارروائی رہی جس کی وجہ سے ماحولیات کے معاملے کی طرف توجہ نہیں دی گئی۔
لیکن حکومت کے سامنے یہ بڑا مسئلہ درپیش ہے کہ وہ اس ملبے کا کیا کرے اور اس وقت اس ملبے کو یا تو دریا میں پینکھا جارہا ہے یا تو پھر کھایوں میں جہاں سے یہ بارش کے پانی کے ساتھ دریا میں چلا جاتا ہے۔
لیکن ساتھ ہی حکام کا کہنا ہے کہ ٹنوں کے حساب سے ملبے کو کسی مناسب اور محفوظ طریقے سے ٹھکانے لگانا بڑا چلینج ہے اور یہ کہ علاقے کی حکومت وسائل نہ ہونے کی وجہ سے اتنا بڑا کام اپنے طور پر نہیں کرسکتی ہے۔ ان کا کہنا ہے اس کے لئے ہمیں حکومت پاکستان اور بین الااقوامی دنیا کی مدد کی ضرورت ہوگی۔
مظفرآباد کی بلدیہ کے سربراہ زاہد امین کاشف نے کہا کہ اس معاملے کی طرف فوری توجہ کی ضرورت ہے ورنہ بہت دیر ہوجائے گی۔ ان کا کہنا ہے کہ ہمیں اس معاملے سے نپٹنے کے لئے حکومت پاکستان اور بین الااقوامی اداروں کی مدد کی ضرورت ہے۔