Tuesday, 14 March, 2006, 13:30 GMT 18:30 PST
مبشر زیدی
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
لاہور ہائی کورٹ کے راولپنڈی بنچ نے منگل کو صدرجنرل پرویز مشرف پر دسمبر 2003 میں ہونے والے قاتلانہ حملے میں ملوث ایک مجرم مشتاق احمد کو فوجی عدالت کی طرف سے سنائی گئی موت کی سزا کو برقرار رکھتے ہوئے اس کی اپیل مسترد کر دی ہے۔
مشتاق احمد کو صدر جنرل پرویز مشرف پر حملے میں دو سال پہلے کورٹ مارشل کے بعد موت کی سزا سنائی گئی تھی۔ مشتاق احمد نومبر 2004 کے آخری ہفتے کے دوران راولپنڈی میں ائرفورس پولیس کی حراست سے فرار ہو گئے تھے تاہم ان کو گزشتہ برس مئی میں دوبارہ گرفتار کر لیا گیا تھا۔
صدر جنرل پرویز مشرف پر دسمبر دو ہزار تین میں راولپنڈی میں دو ناکام قاتلانہ حملے ہوئے تھے جس کے بعد جنرل مشرف نےخود اس بات کا اقرار کیا تھا کہ ان پر حملوں میں فوج کے چند جونیئر اہلکار بھی ملوث تھے۔ تاہم صدر مشرف پر حملے کے کیس کی تحقیقات کو خفیہ رکھا گیا ہے اور اس بارے میں کبھی مکمل طور پر حکام نے کچھ نہیں بتایا۔
مشتاق احمد کو صدر جنرل پرویز مشرف پر حملے میں دو سال پہلے کورٹ مارشل کے بعد موت کی سزا سنائی گئی تھی۔ مشتاق احمد نومبر 2004 کے آخری ہفتے کے دوران راولپنڈی میں ائرفورس پولیس کی حراست سے فرار ہو گئے تھے تاہم ان کو گزشتہ برس مئی میں دوبارہ گرفتار کر لیا گیا تھا
تاہم مشتاق احمد نے اس سزا کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیل کی تھی جس کی سماعت جسٹس عبدالشکور پراچہ نے کی۔
مشتاق احمد کے وکیل نے عدالت کے سامنے یہ نکتہ اٹھایا تھا کہ مشتاق احمد کیونکہ ائیر فورس میں ملازم نہیں تھا لہذا اس کا ائیرفورس ایکٹ کے تحت کورٹ مارشل نہیں ہو سکتا۔
تاہم عدالت نے وکیل کے اس استدلال کو تسلیم نہیں کیا اور پیر کو اس کیس کا فیصلہ محفوظ کر دیا۔ عدالت نے اس کیس کا فیصلہ جاری کرتے ہوئے اپنے مختصر فیصلے میں کہا ہے کہ یہ اپیل مسترد کی جاتی ہے۔
مشتاق احمد کے علاوہ ائیر فورس کے چند جونیئر رینک افسران کو بھی جنرل مشرف پر حملے میں ملوث ہونے کے الزام میں سزا سنائی جا چکی ہے۔
مشتاق احمد کو پندرہ مارچ یعنی بدھ کو پھانسی دی جانی ہے تاہم ان کے وکیل کا کہنا ہے کہ وہ ہائی کورٹ کی طرف سے اپیل مسترد کیے جانے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل کریں گے۔