Monday, 13 March, 2006, 18:02 GMT 23:02 PST
قومی احتساب بیورو نے ملک میں چینی کی حالیہ گرانی پر چینی پیدا کرنے والے کارخانوں کے مالکان کے خلاف جن میں وفاقی وزراء کے علاوہ بہت سے ارکانِ پارلیمان بھی شامل ہیں تحقیقات کرنے کا ارادہ ترک کر دیا ہے۔
پیر کو جاری ہونے والے ایک پریس ریلیز میں نیب کے ترجمان نے کہا کہ وہ ملک میں چینی کی قیمتیں مزید بڑھنے کا باعث نہیں بنانا چاہتے۔ انہوں نے کہا کہ چینی پیدا کرنے والے کارخانوں کے مالکان نے حکومت کی دھمکی دی ہے کہ اگر نیب کی تحقیقات کو فوری طور پر نہیں روکا گیا تو چینی کی قیمت میں مزید اضافہ ہو جائے گا۔
پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ لوگوں کے وسیع تر مفاد اور چینی کی مارکیٹ میں استحکام پیدا کرنے کی خاطر نیب نے ان تحقیقات کو بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ پہلا موقعہ ہے کہ نیب نے فوج اور ججوں کے علاوہ کسی شعبے کے خلاف تحقیقات کرنے سے اپنی معذوری کا اظہار کیا ہو۔
نیب نے چینی کی گرانی کے خلاف تحقیقات کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ باوجود اس حقیقت کے کہ بہت سے حکومتی جماعت کے ارکان پارلیمان اور وفاقی وزراء چینی کے کارخانوں کے مالک ہیں اس بحران کے دوران ناجائز منافع کمانے والوں کو بے نقاب کرے گی۔
نیب کے ترجمان نے کہا کہ یہ تحقیقات چینی کی قیمتوں میں اضافے کی اصل وجوہات معلوم کرنے کے لیے شروع کی گئیں تھیں۔
ترجمان نے کہا کہ ابھی ابتدائی معلومات ہی اکھٹا کرنا شروع کی گئی تھیں کہ بہت سے حلقوں کی طرف سے ایک شور برپا کر دیا گیا اور یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی گویا نیب ہی چینی کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ تاثر بالکل بے بنیاد تھا اور یہ عام آدمی کی مشکلات میں اضافے کا باعث بن رہا تھا۔
گزشتہ مہینوں میں عالمی منڈی میں چینی کی قیمتوں میں اضافے کو وجہ بناتے ہوئے پاکستان میں چینی کی قیمتوں میں سو فیصد سے زیادہ کا اضافہ کر دیا گیا تھا۔