Monday, 13 March, 2006, 13:10 GMT 18:10 PST
اعجاز مہر
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان کی عدالت اعظمیٰ نے پیر کے روز تین ہندو لڑکیوں کے مبینہ طور پر زبردستی اسلام قبول کرنے کے بارے میں کراچی کے ضلعی رابطہ افسر سے رپورٹ طلب کرلی ہے۔
چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی سربراہی میں قائم فل بینچ نے مزید سماعت دس اپریل تک ملتوی کرتے ہوئے ان لڑکیوں کے والدین کو بھی حاضر ہونے کا حکم دیا ہے۔
یہ درخواست سپریم کورٹ بار کے صدر ملک عبدالقیوم نے اپنی تنظیم کی طرف سے دائر کی ہے۔ اس درخواست اکیس سالہ رتنا، انیس سالہ اوشا اور سترہ سالہ ریما کے مبینہ طور پر زبردستی اسلام قبول کرنے کا معاملہ اٹھایا گیا ہے۔
عدالت نے درخواست کی سماعت کرتے ہوئے کراچی کے ضلعی رابطہ افسر سے تعلیم القرآن نامی دینی مدرسے کے بارے میں تفصیلی رپورٹ دینے کی ہدایت کی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ اس مدرسے میں ہی ان لڑکیوں کو مسلمان گیا تھا۔
تینوں لڑکیاں اپنے بیان میں پہلے ہی کہہ چکی ہیں کہ انہوں نے اپنی پسند اور رضامندی سے اسلام قبول کیا ہے۔ لیکن ان کے والدین کا خیال ہے کہ انہیں زبردستی مسلمان کیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ صوبہ سندھ کے مختلف علاقوں میں جہاں ہندو آبادی اکثریت میں ہے وہاں سے وقتاً فوقتاً اس طرح کی خبریں شائع ہوتی رہی ہیں۔