Monday, 13 March, 2006, 00:48 GMT 05:48 PST
میران شاہ میں پرتشدد کاروائیوں میں مبینہ طور پر ملوث مولانا صادق نور نے اعلان کیا ہے کہ وہ میران شاہ کی پچیس کلومیڑ کی حددو میں سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں پر فائرنگ نہیں کریں گے۔
حکومت کی جانب سے تحریری دھمکی کے بعد مقامی لوگوں کا ایک وفد اتوار کے روز مولانا صادق نور کے گھر گیا اور ان سے درخواست کی کہ علاقے کی حفاظت کے لیے سکیورٹی فورسز پر حملے نہ کریں۔
پاکستان فوج کے ترجمان میجر جنرل شوکت سلطان نے میران شاہ کے پچیس کلو میڑ کے علاقے میں سکیورٹی فورسز پرحملہ نہ کرنےکے اعلان کا خیر مقدم کیا۔
بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے میجر جنرل شوکت سلطان نے کہا کہ حکومت صلح صفائی کی باتوں کا خیر مقدم کرتی ہے۔
میجر جنرل شوکت سلطان نے کہا کہ حکومت چاہتی ہے کہ ’شرپسند‘ اپنی کارروائیاں بند کر دیں اور اپنے آپ کو حکومت کے حوالے کردیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے پہلے ہی کئی لوگوں کی عام معافی کا بھی اعلان کر رکھا ہے جس میں کئی غیر ملکی بھی شامل ہیں۔
پاکستان فوج نے شمالی وزیرستان میں قبائلیوں کو وارننگ دی تھی کہ جس گاؤں سے بھی اس پر راکٹ فائر کیا جائے گا اس پورے گاؤں کے خلاف کارروائی ہو گی۔
میران شاہ کے علاقے میں آٹھ روز بعد حالات بہتری کی طرف بڑھ رہے ہیں اور شہر میں کرفیو کی پابندیاں کر دی گئی ہیں۔
اتوار کو حکام نے مقامی آبادی کو یہ تنبیہی نوٹس جاری کیا تھا کہ اگر وہ شدت پسندوں کی مدد کریں گے یا انہیں حکام کے حوالے نہیں کریں گے تو انہیں گرفتاری اور جرمانے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے اور ان کا گھر بھی مسمار کیا جا سکتا ہے۔
مقامی آبادی کے مطابق انہیں شدت پسندوں اور حکام دونوں جانب سے دھمکیاں مل رہی ہیں۔
اتوار کو ہی میر علی کے قصبے سے ایک گولیوں سے چھلنی لاش بھی ملی ہے جس پر یہ نوٹ چسپاں تھا کہ’ یہ اسلام کا دشمن اور حکومت کا حامی تھا اور جو بھی اسلام سے دشمنی اور حکومت کی حمایت کرے گا اس کا یہی حشر ہوگا‘۔
شمالی وزیرستان سے ملحقہ ضلع بنوں میں چھاؤنی پر راکٹ فائر کیے جانے کے واقعے کے علاوہ کوئی سنیچر اور اتوار کے روز کوئی بڑی کارروائی کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔
بنوں سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق حکام کا کہنا ہے کہ بنوں چھاؤنی پر بھی ہفتے کو تین راکٹ فائر کیے گئے لیکن ان سے بھی کسی قسم کا جانی نقصان نہیں ہوا۔
پاکستانی افواج سنہ 2004 سے وزیرستان میں موجود القاعدہ سے تعلق رکھنے والے مبینہ غیر ملکی شدت پسندوں کے خلاف آپریشن جاری رکھے ہوئی ہیں۔ تاہم حالیہ جھڑپوں کا سلسلہ امریکی صدر جارج بش کے دورۂ پاکستان سے قبل شروع ہوا تھا اور اب تک حکام کے مطابق ان جھڑپوں میں دو سو کے قریب مبینہ شدت پسند اور پانچ فوجی مارے جا چکے ہیں۔