http://bbc.com.im/urdu/

عدنان عادل
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور

قاضی حسین احمد کی نظر بندی ختم

چوبیس فروری سے لاہور میں نظر بند جماعت اسلامی کے امیر قاضی حسین احمد کی نظر بندی جمعرات کی رات کو ختم کردی گئی ہے۔

قاضی حسین احمد کو پنجاب حکومت نے متنازعہ کارٹونوں کی اشاعت کے خلاف احتجاج کے دوران ایک ماہ کے لیے جماعت اسلامی کے مرکز منصورہ میں نظر بند کردیا تھا۔

لاہور ہائی کورٹ نے نظر بندی کے خلاف درخواست فنی بنیادوں پر مسترد کردی تھی اور انہیں پنجاب حکومت کے محکمہ داخلہ سے رجوع کرنے کے لیے کہا تھا۔

جمعہ کو سینیٹ کی اسلام آباد کی نشست کے انتخاب کے لیے قومی اسمبلی کے رکن کی حیثیت سے ووٹ ڈالنے کے لیے پنجاب حکومت نے قاضی حسین احمد کو راولپنڈی منتقل کرنا چاہا تھا لیکن انہوں نے انکار کردیا تھا۔

تاہم رات گئے ان کی نظر بندی کے احکامات واپس لینے پر جماعت اسلامی کا کہنا ہے کہ قاضی حسین احمد ووٹ ڈالنے اسلام آباد جائیں گے۔

پنجاب حکومت نے چودہ فروری کو تحفظ ناموس رسالت محاذ کے جلوس کے دوران لاہور میں ہنگامہ آرائی کے الزام میں گرفتار سنی بریلوی رہنما انجینئر سلیم اللہ کوبھی رہا کردیا ہے۔

حکومت نے سنیچر کو پتنگ بازی کے خلاف احتجاج اور ہڑتال کی کال دینے والے جمعیت علمائے پاکستان کے رہنما قاری زوار بہادر کی رہائی کا حکم بھی جاری کیا ہے جنہیں ایک روز پہلے گرفتار کیا گیا تھا۔

پنجاب حکومت نے فوری طور پر صوبہ بھر میں پتنگ بازی پر پابندی عائد کردی ہے۔