http://bbc.com.im/urdu/

Thursday, 09 March, 2006, 11:41 GMT 16:41 PST

مبشر زیدی
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

سربجیت کی سزائے موت برقرار

پاکستان کی سب سے بڑی عدالت سپریم کورٹ نے ملک میں بم دھماکے اور بھارت کے لیے جاسوسی کرنے کے الزامات کے تحت سزائے موت پانے والے بھارتی شہری سربجیت سنگھ کو سزا سے بچانے کے لیے سپریم کورٹ میں نظر ثانی کی چار میں سے ایک درخواست کو مسترد کر دیا ہے۔

اب صدر جنرل پرویز مشرف ہی سربجیت سنگھ کو صدارتی اختیارات کے تحت معافی دے کر سزائے موت سے بچا سکتے ہیں۔

سپریم کورٹ کے دو ججوں جسٹس عبدالحمید ڈوگر اور جسٹس شاکر اللہ جان پر مشتمل بنچ نے جمعرات کو سربجیت سنگھ عرف منجیت سنگھ کی سپریم کورٹ کے گزشتہ برس دیئے گئے فیصلے کے خلاف دائر نظر ثانی کی درخواست کو مختصر سماعت کے بعد مسترد کر دیا۔

سربجیت کے وکیل ایڈوکیٹ رانا عبدالحمید کا اس فیصلے کے خلاف درخواست میں کہنا تھا کہ سربجیت کے خلاف بعض سرکاری گواہوں کے بیانات میں متضاد باتیں کہی گئی ہیں جو کہ سربجیت کے حق میں جاتی ہیں۔ تاہم سپریم کورٹ نے اس استدلال کو مسترد کر دیا تھا۔

سربجیت سنگھ کو ملنے والی سزا کے معاملے کو بھارتی میڈیا نے بڑی کوریج دی تھی اور وزیراعظم منموہن سنگھ نے گزشتہ برس نیو یارک میں صدر جنرل پرویز مشرف سے ملاقات میں سربجیت کی معافی پر بات کی تھی۔

اس ملاقات کے بعد بھارت کے سابق وزیر خارجہ کنور نٹور سنگھ نے بیان دیا تھا کہ انہیں یقین ہے کہ صدر جنرل پرویز مشرف سربجیت کو معاف کردیں گے۔

بھارتی حکام کا کہنا ہے کہ منجیت سنگھ درحقیقت سربجیت سنگھ ہیں اور پاکستانی حکومت کو ان کی شناخت کے بارے میں غلط فہمی ہوئی ہے۔

بھارت میں سربجیت عرف منجیت سنگھ کے اہل خانہ نے دھمکی دی تھی کہ اگر ان کو پھانسی دی گئی تو وہ خود کشی کر لیں گے تاہم پاکستانی حکام کے مطابق باضابطہ طور پر سربجیت سنگھ کے اہل خانہ نے پاکستان سے رابطہ نہیں کیا ہے۔