http://bbc.com.im/urdu/

Thursday, 09 March, 2006, 22:40 GMT 03:40 PST

عزیزاللہ خان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

لوٹی گیس پلانٹ پر حملہ

ڈیرہ بگٹی میں نا معلوم افراد نے لوٹی گیس پلانٹ کے علاقے میں تیس راکٹ داغے گئے ہیں لیکن کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ جبکہ ادھر کوئٹہ میں دستی بم کے دھماکے میں ایک دو افراد زخمی ہوئے ہیں۔

بلوچستان میں ایک ہلاک سات زخمی

لوٹی اور پیرکوہ گیس پلانٹ اس وقت بند ہیں لیکن حکام نے بتایا ہے کہ اس کی مرمت کا کام جمعرات کو مکمل تو کر لیا گیا تھا لیکن اس کو چالو نہیں کیا گیا۔

ڈیرہ بگٹی کے ضلعی رابطہ افسر عبدالصمد لاسی نے بتایا ہے کہ جمعرات کو رات کے وقت نا معلوم افراد نے لوٹی گیس پلانٹ پر کوئی تیس راکٹ داغے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ گیس پلانٹ میں کنواں نمبر دس کے پاس سے زور دار دھماکے کی آواز سنی گئی ہے جس سے زیادہ نقصان کا خدشہ ہے اور اس بارے میں حقائق بعد میں معلوم ہو سکیں گے۔

انھوں نے کہا کہ دونوں پلانٹوں کی مرمت کا کام مکمل ہو چکا ہے لیکن ڈیرہ بگٹی اور سوئی کے قریب دو پائپ لائینوں کی مرمت تاحال نہیں ہو سکی جس کی وجہ سے پلانٹس کام شروع نہیں کر سکے۔

جمہوری وطن پارٹی کے ترجمان شاہد بگٹی نے ان دھماکوں کے بارے میں لا علمی کا اظہار کیا اور کہا کہ گزشتہ رات سنگسیلہ اور واگو کے قریب بارودی سرنگوں کے واقعات میں ایف سی کا جانی نقصان ہوا ہے۔

اس کے علاوہ انہوں نے بتایا کہ گوڑی کے مقام پر سکیورٹی فورسز نے گولہ باری کی ہے لیکن سرکاری سطح اس کی تصدیق نہیں ہو سکی۔

عبدالصمد لاسی نے بتایا ہے کہ فرنٹیئر کور کے اہلکاروں نے پٹوخ کے مقام پر اسلحہ اور چوری شدہ موٹر سائیکل اور گاڑی برآمد کی ہے لیکن کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے۔

ادھر کوئٹہ میں نا معلوم افراد نے دستی بم پھینکا ہے جس سے دو افراد زخمی ہوئے ہیں۔