Thursday, 09 March, 2006, 02:09 GMT 07:09 PST
ذوالفقار علی
بی بی سی اردو ڈاٹ کام مظفرآباد
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی حکومت کا کہنا ہے شہر مظفرآباد میں خیمہ بستیوں میں مقیم پہاڑی علاقوں کے لوگوں کی اپنی گھروں کو واپسی کا عمل شروع ہو رہا ہے۔
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے چیف سیکریڑی کاشف مرتضیٰ کا کہنا ہے کہ ’شہر مظفرآباد میں خیمہ بستیوں میں آباد پہاڑی علاقوں کے لوگوں کی اپنے علاقوں کو واپسی اور ان کی اپنے علاقوں میں دوبارہ آْباد کاری کے عمل کا آغاز جمعرات سے ہورہا ہے اور اپریل تک مکمل ہوجائے گا‘۔
انھوں نے کہاکہ ’ہمیں امید ہے کہ ہم اپریل تک پاکستان اور اس کے زیر انتظام کشمیر کے شہروں میں قائم خیمہ بستیوں میں آباد پہاڑی علاقوں کے نوے فیصد لوگوں کو اپنے اپنے علاقوں میں واپسی اور ان کی دوبارہ آباد کاری کا عمل مکمل کرلیں گے‘۔
انھوں نے کہا کہ ’واپس جانے والے لوگوں کو ٹرانسپورٹ فراہم کرنے کے ساتھ ان کی تسلی کے مطابق پیکجز بھی دیں گے اور ان کو اپنی گھروں کی تعمیر کے لیے پیسے بھی دیں گے‘۔ اس کے علاوہ چیف سیکریڑی کا کہنا ہے کہ ہم ان لوگوں کے لیے قریبی علاقوں میں اسٹور بھی قائم کریں گے جہاں سے وہ سستی قیمتوں پر تعمیراتی سامان بھی خرید سکیں گے لیکن ان کا کہنا تھا کہ دس فیصد لوگ ایسے ہیں جنکی آباد کاری فی الحال ممکن نہیں ہے۔
چیف سیکریڑی کا کہنا ہے کہ پاکستان اور اس کے زیر انتظام کشمیر کے شہروں میں خیمہ بستیوں میں رہنے والے کل سوا لاکھ زلزلے کے متاثرین میں دس فیصد لوگ ایسے ہوں گے جو زمین ضائع ہونے کی وجہ سے یا ان کے علاقوں میں پانی کے ذرائع ختم ہونے کی وجہ اپنے آبائی علاقوں ( دیہاتوں ) میں واپس نہیں جا سکیں گے۔
واپسی کا آغاز اور تکمیل |
ان کا کہنا کہ ’حکومت جب تک ان کو رہائش تعمیر کرنے کے لیے متبادل زمین فراہم نہیں کرتی اس وقت تک ان لوگوں کو خیمہ بستیوں میں ہی رہنا پڑے گا اور اس غرض سے چند ایک خیمہ بستیاں قائم رکھی جائیں گی جہاں یہ لوگ رہیں گے‘۔
ان کے مطابق لوگوں کو متبادل زمین فراہم کرنے میں تاخیر ہو سکتی ے اور یہ کہ ہو سکتا ہے کہ ان لوگوں کو اگلی سردیاں بھی خیموں میں گزارنا پڑے لیکن کاشف مرتضیٰ کا کہنا ہے کہ ’ہمیں امید ہے کہ ہم خیممہ بستیوں میں رہنے والے پہاڑی علاقوں کے نوے فیصد لوگوں کو اپریل تک اپنے آبائی گاؤوں میں دوبارہ آباد کرنے میں کامیاب ہوں گے‘۔
چیف سیکریڑی کا کہنا ہے کہ لوگوں کو اس لیے واپس آنا پڑے گا کیوں کہ ان کو گھروں کی تعمیر کے لیے امداد کی دوسری قسط اپنے علاقوں میں ہی دی جائے گا ۔ ساتھ ہی ان کا کہنا تھا کہ ان کو اور بھی امدادی پیکج دیا جائے گا تا کہ ان کو کوئی مشکل پیش نہ آئے۔
حکومت چاہتی ہے کہ زلزے کے متاثرین کی خیمہ بستیاں ختم ہوں تا کہ لوگ تعمیر نو کے ساتھ ساتھ امداد پر انحصار کرنے کے بجائے خود کام کاج کریں اور اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کی کوشش کریں۔