Wednesday, 08 March, 2006, 16:42 GMT 21:42 PST
اعجاز مہر
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
آٹھ مارچ کو ہر سال دنیا بھر میں خواتین کا عالمی دن منایا جاتا ہے اور گزشتہ سال کی طرح اس سال بھی ہر ملک میں اس موقع پر خواتین کو مردوں کے برابر حقوق دینے کے لیے سیمینار، جلسے اور جلوس منعقد ہو رہے ہیں۔
پاکستان کے مختلف شہروں میں بھی اس سلسلے میں پروگرام منعقد کیے جارہے ہیں اور اسلام آباد میں حکومت اور خواتین کے حقوق کی تنظیموں نے علحدہ علیحدہ جلوس نکالے۔
اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ گزشتہ برسوں کی نسبت خواتین کو دنیا کے مختلف ممالک کی پارلیمانوں میں نمائندگی حاصل ہونے میں بہتری آئی ہے لیکن برابری میں اب بھی چوبیس برس لگ سکتے ہیں۔
پاکستان میں خواتین کو پارلیمان سے مقامی کونسلوں تک بڑے پیمانے پر نمائندگی دینے کا دعویٰ تو فوجی صدر جنرل پرویز مشرف کرتے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود بھی مردوں کے اثر والے اس معاشرے میں روزانہ رضامندی سے شادی کا حق نہ ملنے پر خود کشی یا پھر قتل کیے جانے سے لے کر جنسی تشدد کا نشانہ بنائے جانے اور پیار میں ناکامی پر تیزاب پھینک کر چہرے جلانے کی خبریں بھی تواتر سے پڑھنے کو ملتی ہیں۔
پاکستان میں اس بار ’عالمی یوم نسواں، کے موقع پر اہم قومی اور علاقائی اخبارات کو مانیٹر کرنے والے ایک غیر سرکاری ادارے ’مددگار، نے اپنی جاری کردہ رپورٹ میں بتایا ہے کہ سا دو ہزار پانچ میں چار ہزار آٹھسو خواتین کے ساتھ بدسلوکی کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔
پاکستان میں اقوام متحدہ کے آبادی کے متعلق فنڈ کے ادارے کی ایک نمائندہ ڈاکٹر فرانس ڈونے کا کہنا ہے کہ زچگی کے لیے مناسب طبی سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے ہر سال پچیس ہزار خواتین مر جاتی ہیں۔
ان کے اعداد وشمار کے مطابق پاکستان میں ہر گھنٹے میں تین خواتین بچوں کو جنم دیتے وقت مرجاتی ہیں جبکہ روزانہ پیدا ہونے والے چار سو بچوں میں سے ایک سو ہلاک ہوجاتے ہیں۔
اسلام آباد میں دو خواتین انیسہ زیب طاہر خیلی اور نیلوفر بختیار جو کہ آدھی وزیر یعنی مملکتی وزیر ہیں، ان کی سربراہی میں نکلنے والے جلوس میں زیادہ تعداد تو تعلیمی اداروں سے لائی گئیں بچیوں کی تھی اور انہوں نے اس موقع پر خواتین کے حقوق کے لیے کم مگر فوجی حکمران کے حق میں زیادہ زور دار نعرے لگوائے۔
نیلو فر بختیار نے اس موقع پر کہا کہ خدا کے بعد پاکستان میں صدر جنرل پرویز مشرف ہیں جنہوں نے خواتین کو سب سے زیادہ حقوق دیے ہیں۔
خواتین کو پاکستان میں سب سے زیادہ حقوق دینے کے متعلق ایسے ہی دعوے پیپلز پارٹی کی رکن پنجاب اسمبلی فرزانہ راجہ کی جانب سے منعقد کردہ ایک سیمینار میں بینظیر بھٹو کے بارے میں کیے۔
پاکستان میں خواتین کے حقوق کے بارے میں سیاسی جماعتوں کے ترقی پسند خیالات اور انسانی حقوق اور عورتوں کی حقوق کی تنظیموں کے لبرل سوچ اور مذہبی جماعتوں کے محدود پیمانے پر برقعہ پوش آزادی نسواں کے موقف میں تضاد پایا جاتا ہے۔
شاید یہ ہی وجہ ہے کہ آئین تبدیل کرنے والے بقول نیلوفر بختیار کے ’اللہ کے بعد پاکستان میں خواتین کو زیادہ حقوق دینے والے فوجی صدر، چاہتے ہوئے بھی حدود آرڈیننسز ختم نہیں کر پائے۔
کچھ مبصرین کہتے ہیں کہ پاکستان سمیت دنیا کے اسلامی ممالک اور باالخصوص تیسری دنیا میں گنے جانے والے ممالک میں خواتین کو مردوں کے برابر حقوق ملنے میں تو شاید اب بھی کئی برس لگ جائیں لیکن انہیں اگر بروقت طبی سہولیات اور عدالتوں سے فوری انصاف مل جائے تب بھی بڑا معجزہ ہوگا۔