Saturday, 04 March, 2006, 10:54 GMT 15:54 PST
مبشر زیدی
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان میں حزب اختلاف کی دینی و سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے امریکی صدر جارج بش کی پریس کانفرنس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی صدر پاکستان صرف اس لیے آئے تاکہ وہ اپنے اتحادی صدر جنرل پرویز مشرف کو دہشت گردی کے خلاف امریکہ کی نام نہاد جنگ میں ڈٹے رہنے کی تلقین کریں۔
حزب اختلاف کے رہنماؤں کے مطابق صدر بش کے دورے سے پاکستان کو کچھ حاصل نہیں ہوا۔
اتحاد برائے بحالئ جمہوریت کے سربراہ مخدوم امین فہیم نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ امریکی صدر کا دورہ دراصل بھارت کے لیے تھا اور چونکہ پرانا تعلق ہونے کے ناطے پاکستان بھی امریکی صدر کے راستے میں پڑتا تھا لہذا وہ ادھر بھی آگئے۔
انہوں نے کہا کہ صدر بش نے جمہوریت کے حوالے سے کہا کہ اگلے برس پاکستان میں شفاف انتخابات ہونے چاہئیں مگر صدر مشرف نے اس کے جواب میں اتنا کہا کہ وہ آئین کی خلاف ورزی نہیں کریں گے۔امین فہیم کے مطابق جنرل مشرف آئین توڑ کر ملک پر قابض ہوئے ہیں لہذا ان کی آئین کی پاسداری کی بات پر یقین نہیں کیا جا سکتا۔
امین فہیم نے کہا کہ اس دورے سے پاکستان کو کچھ بھی نہیں ملا سوائے امریکی صدر کے اس پیغام کے کہ فورا دہشت گردوں کی پکڑ دھکڑ میں لگ جاؤ۔
انہوں نے کہا کہ بجائے امریکی صدر سے پاکستان کے لیے کوئی معاہدے کرنے کے جنرل مشرف ملک میں امریکی صدر کے خلاف ہونے والے احتجاج کو دبانے میں لگے رہی۔ انہوں نے کہا کہ صدر بش نے واضح کر دیا ہے کہ پاکستان اب بھارت کا ماتحت ملک ہو گا۔
قاضی حسین نے کہا کہ صدر بش کے دورے کے بعد پاکستانی عوام کو یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ جرنیلوں کی حکومت سے جان چھڑائے بغیر پاکستان امریکہ کی غلامی سے باہر نہیں آ سکتا۔ قاضی حسین کے مطابق صدر بش کے دورے سے پاکستان کو فائدہ ہونے کے بجائے اس کے مفادات کو نقصان پہنچا ہے۔
مسلم لیگ نواز کے ترجمان صدیق الفاروق نے کہا کہ صدر بش نے یہ دورہ صرف جنرپ پرویز مشرف کے لیے کیا اوراس دورے میں کسی معاہدے کا طے نہ پانا اس بات کو ثابت کرتا ہے کہ امریکہ اور پاکستان کی حالیہ دوستی کو پاکستانی عوام کی حمایت حاصل نہیں ہے۔