http://bbc.com.im/urdu/

Friday, 03 March, 2006, 15:54 GMT 20:54 PST

عزیزاللہ خان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام کوئٹہ

بلوچستان میں مظاہرے اور گرفتاریاں

متنازعہ خاکوں کی اشاعت کے خلاف جمعرات کو بلوچستان کے مختلف شہروں میں شٹر ڈاؤن ہڑتال رہی ہے اور احتجاجی مظاہرے کیے گئے ہیں جبکہ پولیس نے کوئٹہ میں کوئی چھبیس افراد کو حراست میں لیا ہے۔

ان مظاہروں کے لیے اپیل دینی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل نے کی تھی۔ اس موقعہ پر مقررین نے اس موقع پر متنازعہ خاکوں کے اشاعت کی مذمت کے ساتھ ساتھ امریکی صدر جارج بش کے دورہ پاکستان اور استقبال پر شدید تنقید کی ہے۔

اسی طرح کے مظاہرے کوئٹہ کے علاوہ افغانستان کی سرحد پر واقع شہر چمن، ساحلی علاقے جیسے گوادر پنجگور اور ادھر ژوب لورالائی وغیرہ میں منعقد کیے گئے ہیں۔

گوادر اور چمن کے مظاہروں میں چار سے پانچ ہزار افراد نے شرکت کی ہے جبکہ یہاں کوئٹہ میں ڈیڑھ سے دو ہزار افراد میزان چوک پر اکٹھے ہوئے اور سخت نعرہ بازی ککی ہے۔

گوادر کے مظاہرے میں مذہبی جماعتوں کے ساتھ ساتھ قوم پرست جماعتوں نے بھی شرکت کی ہے۔

آج صوبے کے بیشتر علاقوں میں دکانیں مارکیٹیں اور کاروباری مراکز بند رہے ہیں۔ کوئٹہ میں سنیئر سپرنٹنڈنٹ پولیس ڈاکٹر مجیب الرحمان نے کہا ہے کہ چھبیس افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہ لوگ پتھراؤ اور بعض مقامات پر زبردستی دکانیں بند کرانے کی کوشش کر رہے تھے لیکن کسی قسم کا کوئی نقصان نہیں ہوا ہے۔