Wednesday, 01 March, 2006, 08:10 GMT 13:10 PST
عزیزاللہ خان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام کوئٹہ
کوئٹہ کے قریب بوستان کے علاقے میں حال ہی میں قائم ہونے والی حکومت کی حمایتی جماعت پاکستان ورکرز پارٹی کے چیئرمین نصراللہ کاکڑ کو نا معلوم افراد نے فائرنگ کرکے ہلاک کر دیا ہے۔
اس واقعہ کے بعد کوئٹہ میں احتجاجی مظاہرے اور توڑ پھوڑ کی گئی۔ پاکستان ورکرز پارٹی کے کارکنوں نے روڈ بلاک کرکے زبردست نعرہ بازی کی۔
بلوچستان حکومت کے ترجمان رازق بگٹی نے بتایا کہ بدھ کی صبح نصراللہ کاکڑ بوستان میں اپنے گھر سے نکلے ہی تھے کہ پہلے سے موجود ایک شخص نے ان پر فائرنگ کر دی جس پر نصراللہ کاکڑ کے محافظ نے فائرنگ کرکے حملہ آور کو زخمی کر دیا تھا جو بعد میں ہسپتال میں دم توڑ گیا۔
حملہ آور کا نام عبدالغنی بتایا گیا ہے اور عمر پینسٹھ برس تھی اور یہ اطلاعات بھی ہیں کہ یہ حملہ ذاتی ناچاقی کی وجہ سے ہوا ہے۔ بوستان کوئٹہ سے کوئی تیس کلومیٹر شمال میں واقع ہے۔
پاکستان ورکرز پارٹی کچھ عرصہ قبل قائم کی گئی تھی اور یہ جماعت حکومت کی پالیسیوں کی حمایت کرتی ہے۔
رازق بگٹی نے مزید بتایا کہ ابھی یہ معلوم نہیں ہے کہ حملہ کیوں کیا گیا ہے لیکن اس حملے کے مقاصد سیاسی نظر آتے ہیں کیونکہ نصراللہ کاکڑ صوبے میں قوم پرست جماعتوں کی مخالفت کر رہے تھے اور حکومت کے ترقیاتی منصوبوں کی حمایت میں کئی جلسے منعقد کر چکے تھے۔