http://bbc.com.im/urdu/

Tuesday, 28 February, 2006, 18:06 GMT 23:06 PST

ریاض سہیل
بی بی سی اردوڈاٹ کام کراچی

زیروپوائنٹ پر توہین آمیز رویہ

پاکستان اور بھارت میں جمہوریت اورامن کے فروغ کے لیے کام کرنے والی ایک تنظیم نے کھوکھراپار ریلوے اسٹیشن کے بجائے زیرو پوائنٹ کے استعمال کو عوام دشمن فیصلہ قرار دیا ہے۔

کراچی میں پاک انڈیا پیپلز فورم برائے امن اور جمہوریت کی رہنما انیس ہارون، اقبال حیدر اور عظمیٰ نورانی نے تھر ایکسپریس میں بھارت کے سفر سے واپسی پر منگل کی شام ایک پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ کھوکھراپار کو ایگزٹ اور انٹری پوائنٹ کے طور پر استعمال کرنا چاہیے کیونکہ زیروپوائنٹ پر نہ کوئی اسٹیشن ہے اور نہ ہی کوئی شیڈ۔ اسی طرح پانی اور کھانے کا بھی کوئی بندوبست نہیں ہے۔ جس وجہ سے لوگوں کو دشواری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

انہوں نے کراچی سے موناباؤ تک اپنے تجربات سے آگاہ کیا اور حکومت کو تجویز دی کہ سندھ اور راجستھان کی سرحد پر بھی مسافروں کی کلیئرنس کے طریقے کو واہگہ کی طرح فعال بنایا جائے اور کم سے کم وقت میں ان کی آمدرفت کا اندراج مکمل کیا جائے۔

امن کے پیروکاروں کا کہنا تھا کہ دونوں حکومتوں کو کراچی، حیدرآباد اور جےپور جودھ پور میں ویزے کی سہولت دینی چاہیے۔ اس کے علاوے باڑمیر، جیسلمیر اور کھوکھراپار جیسے چھوٹے علاقوں کے لیے ویزے جاری کیے جائیں تاکہ منقسم خاندانوں کو آنے جانے میں سہولت حاصل ہوسکے۔

پاک انڈیا پیس فورم کے رہنماوں کا یہ بھی مطالبہ تھا کہ دونوں ممالک کی حکومتوں کو ائرکنڈیشن ٹرین ڈائننگ کار کیساتھ چلانی چاہیے کیونکہ کچھ دنوں میں ریگستانی علاقوں میں گرمی کی شدت ناقابل برداشت ہوگی۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ سندھ اور راجستھان کے درمیان پرانا معاشی اور ثقافتی رشتہ ہے اس کی از سر نو بحالی میں ہر ممکن کوشش کی جائے۔تاکہ تھر کی معشیت بہتر ہوسکے ان کا خیال تھا کہ ٹرین سروس بند ہونے کے بعد تھر میں غربت میں اضافہ ہوا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ زیروپوائنٹ پر پاکستانی حکام کا اپنے شہریوں سے توہین آمیز رویہ رہا۔ انہوں نے گانوں کی سی ڈیز اور اخبارت تک بھی چھین لیے۔ جس کا نوٹس لینا چاہیے۔