Tuesday, 28 February, 2006, 23:12 GMT 04:12 PST
باربرہ پلیٹ اور اعجاز مہر
بی بی سی، اسلام آباد
پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف نے کہا ہے کہ امریکی صدر جارج ڈبلیو بش سے ہونے والی ملاقات میں بات چیت کا محور تو مسئلہ کشمیر ہوگا لیکن ان کے دورے سے مسئلہ کشمیر پر ’بریک تھرو‘ نہیں ہوگا۔
بی بی سی کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں صدر جنرل مشرف نے کہا ’ کشمیر پر بریک تھرو اس وقت ہوگا جب پاکستان اور بھارت میز پر بیٹھ کر حل کی بات کریں گے۔ میں یہ توقع کرتا ہوں کہ امریکی صدر فریقین پر دباؤ ڈالیں گے کہ مسئلہ حل کریں، کیونکہ ابھی یہ مسئلہ حل کرنے کے لیے ’آئیڈیل‘ ماحول اور وقت ہے‘۔
واضح رہے کہ امریکی صدر نے حال ہی میں ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ مسئلہ کشمیر کا حل ایسا ہونا چاہیے جو ہندوستان، پاکستان اور کشمیریوں کے لیے قابل قبول ہو۔
صدر جنرل پرویز مشرف نے اس تاثر سے تو اتفاق کیا کہ تاحال پاکستان اور بھارت کے درمیان دو طرفہ سطح پر ہونے والی بات چیت میں مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے ٹھوس پیش رفت نہیں ہوسکی۔ لیکن اس کے باوجود بھی ان کا کہنا ہے کہ معاملات دوطرفہ سطح پر ہی آگے بڑھانے ہوں گے۔
صدر جارج ڈبلیو بش رواں ہفتے کے آخر میں بھارت سے ہوتے ہوئے دو روزہ دورے پر اسلام آباد پہنچ رہے ہیں۔ امریکی صدر دوسری بار صدر منتخب ہوئے ہیں لیکن اس خطے کا پہلی بار دورہ کر رہے ہیں۔
انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ’سب سے پہلے تو میں بات کروں گا کشمیر۔ کیونکہ یہ ہمارے اعتبار سے سب سے اہم ہے۔ کشمیر معاملے پر وہ ( صدر بش) اپنا اثر و رسوخ استعمال کریں تاکہ بھارت، پاکستان اور کشمیری بیٹھ کر اس کو حل کریں۔ دوسرا معاملہ جو میں اٹھانا چاہوں گا وہ دہشت گردی ہے۔ اس بارے میں کچھ غلط فہمیاں پیدا ہوئی ہیں، جو میری نظر میں افغانستان کی قیادت بہت زیادہ الجھن پیدا کرتی ہے۔ اس کو میں ختم کرنا چاہتا ہوں اور امریکی منڈی تک رسائی پر بات کریں گے‘۔
پیغمبر اسلام کے متعلق یورپی اخبارات میں خاکوں کی اشاعت کے خلاف ہونے والے احتجاج کے بارے میں صدر جنرل پرویز مشرف نے کہا کہ ’اس معاملے پر جو کچھ وہ کر رہے ہیں اس پر پاکستانی عوام کی اکثریت ان کے ساتھ ہے۔ اگر ایسا نہیں ہوتا تو لاکھوں لوگ سڑکوں پر نکلتے، جو نہیں ہورہا۔ پندرہ کروڑ کی آبادی کے ملک میں اگر چند ہزار لوگ سڑکوں پر آئیں تو اسے پاکستانی عوام کا ’ریسپانس، نہیں کہا جاسکتا۔ اس سے غلط تاثر نہ لیا جائے۔ ابھی جو کچھ آپ دیکھ رہے ہیں اس میں کچھ ایسے لوگ ہیں جو ناموس رسالت کے لیے احتجاج کر رہے ہیں اور کچھ لوگ سیاسی عزائم رکھتے ہیں۔ انہیں علیحدہ علیحدہ کر کے دیکھنا ہوگا۔ ہم اس معاملے کو سیاسی رنگ دینے والوں کے خلاف سخت کارروائی کر رہے ہیں اور ہم جانتے ہیں یہ کون لوگ ہیں،۔
![]() | |
| صدر مشرف کے امریکی دورے کی ایک تصویر |
ایک اور سوال پر انہوں نے کہا کہ ’حزب اختلاف کی جانب سے میرے مستعفی ہونے کا مطالبہ فضول ہے کیونکہ پاکستانی عوام ایسا نہیں چاہتے۔ میرے استعفے کا ناموس رسالت سے کیا تعلق ہے؟‘۔
دولت مشترکہ اور دیگر عالمی تنظیموں کی جانب سے پاکستان میں جمہوریت اور صدر کے ساتھ آرمی چیف کا عہدہ رکھنے کے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ ’سب سے پہلے تو میں مغرب سے کہتا ہوں کہ وہ جمہوریت کی وصف بیان کریں کہ جمہوریت ہے کیا؟۔ میں سمجھتا ہوں جمہوریت اظہار رائے اور میڈیا کی آزادی اور عوام کی رائے کے احترام اور ان کے منتخب نمائندوں کی حکمرانی کا نام ہے۔ گزشتہ چھ برس میں جو کچھ میں نے کیا وہ ہی جمہوریت کی روح ہے۔ جو کچھ مغرب والے دیکھ رہے ہیں وہ جمہوریت کا لیبل یعنی لبادہ ہے‘۔
صدر پرویز مشرف نے کہا کہ جمہوریت اور فوجی وردی کے بارے میں صدر بش کی جانب سے دباؤ ڈالنے کی وہ توقع نہیں کرتے۔
’وہ ( صدر بش) یہ کہتے ہیں کہ جمہوریت کو مضبوط کرنا چاہیے۔ میں بھی ایسا کہتا ہوں۔ جہاں تک کہتے ہیں کہ فوجی وردی جمہوریت کا مسئلہ ہے، ٹھیک ہے مسئلہ ہے۔ مگر فوجی وردی کی منظوری پارلیمان نے دو تہائی اکثریت سے دی ہے۔ پھر ہم کس جمہوریت کی بات کرتے ہیں؟‘۔
’میں سمجھتا ہوں کہ سب سے بڑا پیمانہ عوام ہیں اور وہ میرے ساتھ ہیں۔ ان چند ہزار افراد جو سڑکوں پر آتے ہیں ان سے گمراہ نہ ہوں۔ عوام کی اکثریت ساتھ نہ ہوتی تو میں عہدہ چھوڑ دیتا۔ عوام اگر اس کے خلاف ہوتے تو وہ سڑکوں پر آجاتے۔ آپ پاکستان میں آمروں کی تاریخ دیکھیں انہیں عوام نے جب چاہا تو ہٹا دیا۔ آپ عوام کے مقبول سمجھے جانے والے لیڈر ذوالفقار علی بھٹو کو دیکھیں اور انہیں بھی عوام نے اٹھا کر باہر پھینک دیا‘۔