Monday, 27 February, 2006, 20:13 GMT 01:13 PST
ریبا شاہد
کراچی
انٹرنیٹ اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کی مرہون منت ہماری دنیا اب دو حصّوں میں تقسیم ہو کر رہ گئی ہے: ایک حقیقی اور دوسری روایتی۔ جغرافیائی سرحدوں سے بالا تر سائبرسپیس کی ڈیجیٹل دنیا۔ اس ڈیجیٹل دنیا کی شہریت صرف ایک کمپیوٹر بمعہ انٹرنیٹ کنکشن اور ان کے بنیادی استعمال سے آشنائی کی محتاج ہے۔
یوں تو انٹرنیٹ پر اپنے خیالات اور اظہار کے مختلف طریقے موجود ہیں تاہم بلاگز اور بلاگنگ انٹرنیٹ پر آزادی رائے کے علامت تصور کیے جاتے ہیں۔
انٹرنیٹ بلاگ دراصل ایک ایسی ڈائری نما ویب سائٹ کو کہا جا تا ہے جس پر اپ ڈیٹس یا پوسٹس کی صورت میں مختلف موضوعات پر تحریری یا تصویری ( اور حال ہی میں صوتی) طور پر اظہار خیال کیا جا تا ہے۔
بلاگ قارئین اور لنکس بلاگز پر عموماً قارئین کو بھی موجود مواد پر تبصرہ کر نے کی سہولت فراہم کی جاتی ہے اور تحریروں میں موضوع کی مناسبت سے مختلف ویب سائٹس کے لنکس بھی شامل کیے جا تے ہیں۔ |
روایتی طور پر انٹرنیٹ پرموجود بیشتر مواد کی اشاعت انگریزی میں کی جاتی ہے تاہم انٹرنیٹ پر مقامی زبان میں برقی اشاعت کی سہولت میسر ہونے کے ساتھ ساتھ اس صورتحال میں بھی تبدیلی نظر آنے لگی ہے جس کی جھلک بلاگنگ کے کلچر میں بھی نظر آتی ہے۔
مقامی زبانوں میں بلاگ لکھنے کا عمل انٹرنیٹ پر ہم زبان قارئین اور بلاگرز کو ایک کمیونٹی بنا دیتا ہے۔ جیسا کہ اردو بلاگز کی صورت میں نظر آتا ہے۔
انٹرنیٹ پر موجود اردو بلاگز کی تحریروں کا دائرہ اتنا ہی وسیع ہے جتنا انسان کی سوچ اور امورِ زندگی کا دائرہ۔ حتیٰ کہ پاکستا ن کے توسط سے بھی ایک اردو بلاگ موجود ہے
(www.mypakistan.com/)
جس کے پسِ پشت کار فرما تخلیقی ذہن قاّرئین سے ملک کا تعارف ان الفاظ میں کرتا ہے
’میں 14 اگست 1947 کو پیدا ہوا اور ایک سال کا تھا کہ ماں يعني جمہوريت فوت ہو گئي اور اس کے بعد باپ يعني اسلام چھوڑ کر کہيں چلا گيا۔ پھر اپنے رشتہ داروں کے گھر بچپن گزارا اور لڑکپن آرمي کی بیرکوں میں۔ جنرل ایوب کے گھر میں بیمار ہوا اور جنرل یحيی کے ہسپتال میں سرجن ذوالفقار علی بھٹو اور ڈاکٹر مجیب الرّحمان نے میرا ایک بازو کاٹ دیا۔ تب سے اب تک میں معذور فقیر بن کر جگہ جگہ سے بھیک مانگ رہا ہوں۔ پچیس سال کی عمر میں جمہوریت نصیب ہوئی مگر چند سال کے بعد پھر جنرل ضیا الحق نے مجھے فوجی بیرک میں منتقل کر دیا۔ اس نے اسلام کے نام پر مجھے استعمال اور امریکہ کے کہنے پر افغانستان میں روس کے خلاف نبرد آزما کیا۔ اس جنگ نے کلاشنکوف کلچر کو متعارف کرایا۔ جب روس امریکہ کے سٹنگر میزائلوں سے ڈر کر بھاگ گیا تو پھر امریکہ کو جنرل ضیا کی ضرورت نہ رہی کیونکہ اس نے اسلام کے نام پر بادشاہت چمکانے کی کوششيں شروع کر دی تھیں۔ پھر ڈھلتی جوانی میں دو چار جمہوریّت کے ناکام تجربے کیے گئے اب پھر میں فوجی بیرک میں عرصہ چھ سال سے مقیم ہوں اور امریکہ کے رحم و کرم پر ہوں۔ اس انتظار میں ہوں کہ کوئی مخلص اور محب وطن میری دیکھ بھال شروع کرے اور میری قوم سکھ کے دن گزارنا شروع کرے‘
قارئین اور بلاگر ایک کمیونٹی مقامی زبانوں میں بلاگ لکھنے کا عمل انٹرنیٹ پر ہم زبان قارئین اور بلاگرز کو ایک کمیونٹی بنا دیتا ہے۔ جیسا کہ اردو بلاگز کی صورت میں نظر آتا ہے۔ |
نعمان کہتے ہیں: |
کچھ اس ہی قسم کے تاثرات ریحان مرزا علی کے بھی ہیں۔ ریحان کا تعلق ساہیوال سے ہے اور وہ ایک طالب علم ہیں۔ وہ گزشتہ تین ماہ سے
http://mirzarehan.blogspot.com
پر اردو میں بلاگ کر رہے ہیں _ ریحان مرزا کے خیال میں بلاگ یاداشت کو ڈیجیٹل طور پر محفوظ کر نے کا بہترین ذریعہ فراہم کرتے ہیں ـ بلاگ کے لیے اردو زبان کا انتخاب اس لیے کیا کیونکہ ’جو بات ادور زبان میں ہے وہ کسی اور زبان میں نہیں ہے‘۔ ریحان کے خیال میں ’بلاگ معاشرے کی سوچ تبدیل کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ بلاگ پرخبروں پر ذاتی تبصرہ ہی نہیں بلکہ بعض اوقات عالمی واقعات کا آنکھوں دیکھا حال اور انسانی رویوں کا خلاصہ بھی پڑھنے کوملتا ہے یوں ایک لحاظ سے بلاگز کا خبروں اور نیوز اپ ڈیٹز کے روایتی ذرائع سےموازنہ کیا جا سکتا ہے‘۔
بلاگز نے معلومات کے سیلاب کی رفتار کو بے پناہ تیز کردیا ہے۔ معلومات کے علاوہ آراء کی اس قدر فراوانی نوع انسانی کو پہلے میسر نہیں تھی۔ امریکی الیکشن کو دیکھیں یا پاکستان میں آنے والے زلزلے کو بلاگرز نے معاشرے پر اثر ڈالنا شروع کردیا ہے۔ آہستہ آہستہ یہ اثر بڑھے گا کم نہیں ہوگاـ
انگریزی کی ایک کہاوت ہے ’قلم تلوار سے زیادہ طاقتور ہے‘۔ مگر انٹرنیٹ پر بلاگ اور برقی اشاعت کے دیگر ذرائع کو دیکھتے ہوئے یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ آج کے ڈیجیٹل دور میں اب ’ کی بورڈ قلم سے زیادہ طاقتور ہے‘۔