http://bbc.com.im/urdu/

Monday, 27 February, 2006, 09:24 GMT 14:24 PST

عزیزاللہ خان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

بلوچستان میں دو ٹرینوں پر حملہ

صوبہ بلوچستان میں مچھ کے قریب اوسے پور کے علاقے میں چلتن ایکسپریس پر نا معلوم افراد نے حملہ کیا ہے جس سے انجن اور دو بوگیاں پٹڑی سے اتر گئی ہیں جبکہ سبی ہرنائی سیکشن پر ایک سروس ٹرین پر حملے سے فرنٹیئر کانسٹبلری کے تین اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔

تازہ ترین اطلاعات کے مطابق فرنٹیئر کانسٹبلری کے زخمی ہونے والا ایک اہلکار کوئٹہ پہنچتے پہنچتے دم توڑ گیا۔

بلوچستان کے انسپکٹر جنرل پولیس چوہدری محمد یعقوب نے کہا ہے کہ سبی ہرنائی سیکشن پر سروس ٹرین پر حملے میں زخمی ہونے والا ایک سپاہی ہلاک ہو گیا ہے جس کی نمازِ جنازہ یہاں کوئٹہ پولیس لائن میں ادا کی گئی ہے۔ اس حملے میں تین اہلکار زخمی ہو گئے تھے۔

کوئٹہ میں ریلوے کے ڈویژنل سپرنٹنڈنٹ نعیم ملک نے بتایا ہے کہ دو ریل گاڑیوں پر حملے ہوئے ہیں۔ مچھ اور سبی کے درمیان اوسے پور کے علاقے میں ریل کی پٹڑی پر دھماکہ ہوا ہے جس سے ریل کا انجن اور دو بوگیاں پٹڑی سے گرگئی ہیں اور اس کے بعد فرنٹیئر کور اور مسلح افراد کے مابین فائرنگ کا تبادلہ ہوا ہے۔

چلتن ایکسپریس آج صبح کوئی چھ بجے کوئٹہ سے لاہور کے لیے روانہ ہوئی ہے۔ ریل گاڑیوں کی حفاظت کے لیے فرنٹیئر کور کے اہلکار موجود تھےجنہوں نے حملے کے بعد جوابی کارروائی کی ہے۔

نعیم ملک نے بتایا ہے کہ ساڑھے بارہ بجے دوپہر تک فائرنگ کا تبادلہ ہورہا تھا۔

ابھی تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ آیا ریل کی پٹڑی پر بم نصب کرکے دھماکہ کیا گیا ہے اور یا راکٹ سے پٹڑی کو نشانہ بنا کر اسے نقصان پہنچایا گیا ہے جس سے ریل پٹڑی سے گر گئی ہے۔

فرنٹیئر کور کے ترجمان نے کہا ہے کہ مچھ کی طرف فرنٹییر کور یعنی نیم فوجی دستے کی ٹیمیں بھیج دی گئی ہیں۔

نعیم ملک نے بتایا ہے کہ ادھر ایک دوسرے واقعے میں نا معلوم افراد نے سبی ہرنائی سیکشن پر ایک مرمت کے لیے جانے والی سروس ٹرین پر حملہ کیا گیا ہے۔ اس حملے میں گاڑی کو نقصان نہیں پہنچا لیکن وہاں کام میں مصروف فرنٹیئر کانسٹبلری کے تین اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔ زخمیوں میں ایک کی حالت تشویشناک بتائی گئی ہے۔

ادھر ڈیرہ بگٹی کے ناظم کاظم بگٹی نے ٹیلیفون پر بتایا ہے کہ لہڑی اور ڈیرہ بگٹی کے درمیان مسلح قبائلیوں اور سیکیورٹی فورسز کے مابین شدید جھڑ پیں ہوئی ہیں جس میں سیکیورٹی فورسز کا جانی نقصان ہوا ہے لیکن سرکاری سطح پر اس کی تصدیق نہیں ہو سکی۔