http://bbc.com.im/urdu/

Sunday, 26 February, 2006, 05:35 GMT 10:35 PST

لاہور میں احتجاجی مظاہرے کی تیاریاں

پاکستان کی طاقتور مذہبی جماعتوں نے احتجاج پر حکومت کی عائد کردہ پابندیوں کو ایک مرتبہ پھر چیلنج کرنے کا عہد کیا ہے۔

اسلامی جماعتوں کا اتحاد ایم ایم اے یورپی اخباروں میں پیغمبرِ اسلام کے خلاف توہین آمیز کارٹونوں کی اشاعت کے خلاف احتجاج میں آج لاہور میں ایک عام جلسہ منعقد کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔

حکومت نے ایسے احتجاجوں پر پابندی لگائی ہوئی ہے۔ حکومت نے کارٹونوں کے خلاف مظاہرے اس وقت ممنوع قرار دیے تھے جب یہ پر تشدد ہو گئے تھے اور لوٹ مار شروع ہو گئی تھی۔ حکام پوری کوشش کر رہے ہیں کہ ایم ایم اے کو جلوس نکالنے سے باز رکھا جائے۔

حکومت نے ایم ایم اے کے ایک سینیئر رہنما قاضی حسین احمد کو ان کے گھر میں نظر بند کر دیا ہے اور جماعت اسلامی کے کئی افراد کو حراست میں لے رکھا ہے۔ قاضی حسین احمد کا کہنا ہے کہ وہ پھر بھی جلوس میں شریک ہونگے۔

انہوں نے کہا کہ کوئی بھی مظاہرہ جو ان کی قیادت میں ہو گا پر امن ہو گا اور اگر انہیں قیادت کرنے سے روکا گیا تو مظاہرہ پرتشدد ہو سکتا ہے۔

مبصرین کا خیال ہے کہ مذہبی جماعتیں عوام کے اس غم و غصے سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہی ہیں جو پیغمبرِ اسلام کے کارٹونوں کی اشاعت کے بعد بھڑک اٹھا ہے۔ اس غصے کو صدر جنرل مشرف کے خلاف تحریک کو تیز کرنے کے لیے بھی استعمال کیا جا رہا ہے۔

مذہبی جماعتیں یہ دھمکی بھی دے رہی ہیں کہ وہ اپنی تحریک آئندہ ماہ امریکی صدر بش کے دورے تک بلکہ اس کے بعد بھی جاری رکھیں گی۔