Thursday, 23 February, 2006, 07:28 GMT 12:28 PST
مبشر زیدی
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستانی دفتر خارجہ نے افغانستان کے ایک وزیر کی اس درخواست کو مسترد کر دیا ہے کہ پاکستانی میزائیلوں کے نام بدلے جائیں کیونکہ یہ نام افغان حکمرانوں کے ہیں۔
دفتر خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم نے بی بی سی کو بتایا کہ پاکستان ان میزائیلوں کے نام نہیں بدلے گا کیونکہ پاکستان اور افغانستان کی ثقافت اور تاریخ مشترکہ ہے، لہذا ان کے ہیروز بھی مشترکہ ہیں۔
افغانستان کے وزیر اطلاعات سید مخدوم رحین نے بدھ کو کہا تھا کہ انہوں نے پاکستان کو ایک خط بھیجا ہے جس میں پاکستان سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنے میزائیلوں کے نام افغان حکمرانوں پر نہ رکھے۔
افغان وزیر اطلاعات کے مطابق شہاب الدین غوری، محمود غزنوی، اور احمد شاہ ابدالی کے نام تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے ساتھ جوڑنے کی بجائے تعلیم اور تہذیب پھیلانے والے ادارے کے ساتھ منسوب ہونے چاہیں۔ واضح رہے کہ پاکستانی میزائیلوں میں سے تین اہم میزائیلوں کے نام غوری، غزنوی اور ابدالی ہیں۔
سید مخدوم رحین نے کہا کہ محمود غزنوی، احمد شاہ ابدالی، اور شہاب الدین غوری نے علم اور تہذیب پھیلائی اور ان کے نام تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے ساتھ منسوب نہیں ہونے چاہیں۔
تاہم پاکستانی دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ انہوں نے اس بارے میں افغانستان کے دفتر خارجہ سے اس خط کے بارے میں دریافت کیا ہے مگر ان کو بتایا گیا ہے کہ ایسا کوئی خط پاکستانی دفتر خارجہ کو نہیں بھیجا گیا۔
تسنیم اسلم نے اپنی وضاحت میں کہا کہ ان ہیروز کی قبریں کہاں ہیں یہ سب کو معلوم ہے۔ پاکستان میں بعض لوگ ان کو مسلمان فاتح قرار دیتے ہیں جنہوں نے ہندو راجاؤں کو شکست دی۔
پاکستان کے غوری، غزنوی اور ابدالی میزائیل ایٹمی اسلحہ لیجانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ پاکستان نے یہ میزائیل بھارت کے میزائیل پروگرام کے مقابلے میں بنائے ہیں۔
پاکستان نے پچھلے ہفتے بھی ایٹمی ہتھیار لے جانے والے اپنے میزائیل ’ابدالی‘ کا تجربہ کیاتھا۔ پاکستان کا غوری میزائیل سسٹم کا نام، جو دو ہزار میل تک مار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، افغان حکمران شہاب الدین غوری کے نام پر رکھا گیا تھا۔
شہاب الدین غوری پہلے افغان حکمران تھے جنہوں نے انڈیا میں فتوحات کے بعد اپنی حکومت قائم کی تھی۔