Tuesday, 21 February, 2006, 19:44 GMT 00:44 PST
ریاض سہیل
بی بی سی اردو ڈاٹ کام کراچی
سندھ میں اپوزیشن جماعتوں پاکستان پیپلز پارٹی اور متحدہ مجلس عمل کے درمیان سینیٹ کے انتخاب کے لیے اتحاد ہوگیا ہے۔ پی پی پی پارلیمنٹیرین نے عام انتخاب میں پارٹی چیئر پرسن بینظیر بھٹو کے مدمقابل امیدوار ڈاکٹر خالد محمود سومرو کی حمایت کی ہے۔
پاکستان کے ایوان بالا سینیٹ کی نصف نشستوں کے انتخابات کے لیے چھ مارچ کو چاروں صوبائی اسمبلیوں میں پولنگ ہوگی۔ منگل کو دستبردار ہونے کی آخری تاریخ تھی۔
سندھ میں سینیٹ کی گیارہ نشستوں کے لیے انتخابات ہو رہے ہیں۔ جس میں دو خواتین، دو ٹیکنو کریٹس اور چھ عام نشستیں ہیں۔
انتخاب کے لیے ایم ایم اے کے بانی مولانا شاھ احمد نورانی کے فرزند اویس صدیقی بھی امیدوار تھے مگر مدرسے کی اسناد کی وجہ سے الیکشن کمیشن نے ان کا نامزدگی فارم مسترد کردیا۔
گیارہ نشستوں کے لیے حکمران اتحاد نے بھی اپنے امیدوار کھڑے کیے ہیں۔
پی پی پی کی جانب سے میاں رضا ربانی، صفدر عباسی، جاوید لغاری اور رتنا بھگوان داس امیدوار ہیں۔
مسلم لیگ (ق ) کے عبدالغفار قریشی، کشچند پاروانی، کلپنا دیوی اور سیمی صدیقی اور پیر پگارہ کی جماعت کے عبدالرزاق تھہیم مقابلے میں ہیں۔ متحدہ قومی موومنٹ کی جانب سے احمد علی، طاہر مشھدی، عبدالخالق پیرزادہ اور صابرہ خاتون امیدوار ہیں جبکہ محمود ہاشمی آزاد امیدوار کی حیثیت میں انتخاب میں حصہ لے رہے ہیں۔ اسی طرح ڈاکٹر محمود سومرو ایم ایم اے کے امیدوار ہیں۔
سندھ اسمبلی میں اپوزیشن رہنما نثار کھوڑو نے بی بی سی کو بتایا کہ مرکزی سطح پر اپوزیشن جماعتوں میں مشترکہ امیدوار کھڑے کرنے کی انڈر سٹینڈنگ ہوئی ہے۔ سرحد میں بھی اسی طرح کیا جا رہا ہے جب کہ پنجاب میں ایم ایم اے کا کوئی امیدوار نہیں ہے اور وہ رضاکارانہ طور ہماری مدد کرینگے۔
لاڑکانہ کے حلقے میں بینظیر بھٹو کے مدمقابل رہنے والے جے یو آئی کے صوبائی سکریٹری جنرل خالد محمود سومرو کی حمایت کے بارے میں انہوں نے کہا کہ ایسا جمہوریت کے عظیم تر مفاد میں کیا گیا ہے۔
سندھ اسمبلی کے ایک سو اڑسٹھ کے ایوان میں پی پی کے اٹھاون، ایم ایم اے کے آٹھ اور ایم کیو ایم کے بیالیس ممبران ہیں۔