Wednesday, 15 February, 2006, 14:23 GMT 19:23 PST
ریاض سہیل
بی بی سی اردو ڈاٹ کام کراچی
پاکستان انسانی حقوق کمیشن نے مغربی اخبارات میں پیغمبر اسلام کے خلاف چھپنے والے کارٹونوں کی مذمت کی ہے اور ملک میں جاری پرتشدد واقعات کا ذمہ دار حکومت کو قرار دیا ہے۔
انسانی حقوق کمیشن کے سیکرٹری جنرل اقبال حیدر نے بدھ کو ایک پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ’ہم سمجھتے ہیں یہ حق کسی کو بھی حاصل نہیں ہے کہ وہ کسی ملک،مذہب یا فرد کی توہین کرے۔ ہم توہین کے واقعے کی مذمت کرتے ہیں‘۔
انہوں نے کہا کہ ’اپنے لوگوں اور املاک کو نقصان پہنچانا کہاں کی عقلمندی ہے۔ سفارتکاروں ملٹی نیشنل کمپنیوں کے دفاتر پر حملوں سے اسلام کی نہیں بلکہ اسلام مخالفوں کی خدمت کی جارہی ہے اس صورت میں جنہوں نے کارٹون شائع کیے تھے وہ خوشی کا اظہار کر رہے ہوں گے کہ ہم نے انہیں بے نقاب کیا ہے‘۔
اقبال حیدر نے کہا کہ لاہور کی صورت حال دیکھ کر حیرت ہوئی کہ حکومت نے غنڈوں کو کس طرح فری ہینڈ دیا ہوا تھا۔ لوگوں کے ہاتھوں میں کیروسلین آئل تھا اور وہ آگ لگا رہے تھے،انتظامیہ کی ناکامی واضح نظر آرہی تھی۔
انہوں نے کہا کہ یہ بہت سنجیدہ صورتحال ہے،جس کا پاکستان اور عوام کو خمیزہ بھگتنا پڑیگا۔ جو کچھ ہو رہا ہے وہ حکومت کے لیے باعث شرم ہے۔
انسانی حقوق کمیشن کے رہنما کا کہنا تھا کہ احتجاج ہر کسی کا حق ہے جس کا درست استعمال ہونا چاہئے۔
ان کا کہنا تھا کہ ڈنمارک کے جن اخبارات میں یہ کارٹون شایع ہوئے ہیں ان کے خلاف مقدمہ کیوں دائر نہیں کیا جاتا۔
پریس کانفرنس میں اقبال حیدر نے پاکستان میں انسانی حقوق کی صورتحال سے آگاہ کیا۔