Monday, 13 February, 2006, 20:01 GMT 01:01 PST
عزیزاللہ خان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام کوئٹہ
کوئٹہ میں پولیس نے امام بارگاہ پر حملے کے ایک ملزم اور کالعدم تنظیم لشکر جھنگوی کے اہم رکن کو گرفتار کیا ہے جس سے تفتیش کی جا رہی ہے۔
سپرنٹنڈنٹ پولیس وزیر خان ناصر نے بتایا ہے کہ یہ گرفتاری پیر کو سریاب کے علاقے سے کی گئی ہے۔ انھوں نے بتایا کہ ملزم ڈاکٹر منیر کا مستونگ میں ایک کلینک تھا جہاں دیگر ملزمان کے ساتھ مل کر سن دو ہزار تین میں امام بارگاہ میکانگی روڈ پر حملے کی منصوبہ بندی کی گئی تھی۔ وزیر خان نے بتایا ہے کہ ملزم ڈاکٹر منیر اس حملے کا ماسٹر مائنڈ ہے جس سے مزید معلومات ملنے کی توقع ہے۔
پولیس حکام نے بتایا ہے کہ ملزم پولیس کو مطلوب تھا اور اس کی گرفتاری پر انعام بھی مقرر کیا گیا تھا۔
کوئٹہ میں جولائی دو ہزار تین میں امام بارگاہ پر نا معلوم افراد نے خودکش حملہ کیا تھا جس میں لگ بھگ پچاس افراد ہلاک اور ایک سو سے زیادہ زخمی ہو گئے تھے۔ ملزمان نے ظاہری طور پر پھلوں کی ایک ریڑھی کے اندر اسلحہ چھپا رکھا تھا اور جب لوگ جمعہ نماز کی دوسری رکعت کے لیے کھڑے تھے تو یہ لوگ امام بارگاہ سے متصل مسجد میں داخل ہوئے اور فائرنگ شروع کر دی تھی۔
اس واقعہ سے ایک ماہ پہلے کوئٹہ کے سریاب روڈ پر نا معلوم افراد نے پولیس کیڈٹس کی گاڑی پر حملہ کیا تھا جس میں اہل تشیع سے تعلق رکھنے والے افراد سوار تھے۔ اس حملے میں بارہ کیڈٹس ہلاک ہو گئے تھے۔
وزیر خان ناصر نے بتایا ہے کہ اس سے پہلے داؤد بادینی اور شمیم نامی اہم ملزمان کو گرفتار کیا جا چکاہے جبکہ کچھ ابھی تک باقی ہیں جن کی گرفتاری کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔