Sunday, 12 February, 2006, 13:14 GMT 18:14 PST
وجاہت مسعود
لندن
دنیا بھر میں عورتوں کا دن 8 مارچ کو منایا جاتا ہے مگر پاکستان میں یہ دن 12 فروری کو منایا جاتا ہے۔ اس کا ایک تاریخی پس منظر ہے۔ 1983 میں جنرل ضیا الحق نے اسلام کے نام پر 1862 کے قانون شہادت میں ترمیم کی تھی تو اس کے تحت عورتوں کی گواہی کو مردوں کے مقابلے میں آدھا قرار دے دیا تھا۔
ٹھیک تین برس پہلے فروری 1979 میں حدود قوانین کے نفاذ سے عورتوں کی قانونی، سماجی، معاشی اور سیاسی حیثیت کو خاصا دھچکا پہنچا تھا۔ قانون شہادت میں تبدیلیوں سے عورتوں کی حیثیت میں مزید کمی کا سخت اندیشہ تھا۔ بظاہر 1979 کے حدود قوانین کا تعلق صرف جنسی بےراہروی سے تھا لیکن عملی طور پر حدود قوانین نے عورتوں کو انسان کے درجے سے گرا کر محض ایک جنسی شے کی حیثیت دے دی۔ عورتوں کی تعلیمی ترجیحات، پیشہ ورانہ انتخاب اور سیاسی رائے کو جنسی تناظر میں دیکھا جانے لگا۔ حتٰی کہ عورتوں کا لباس بھی حدود قوانین کی زد میں آ گیا۔1979 میں قیدی عورتوں کی کل تعداد سو سے بھی کم تھی۔ اب یہ تعداد 6000 سے تجاوز کر چکی ہے۔
1983 میں قانون شہادت میں ترمیم کے موقع پر مذہب پسند حلقوں نے طفل تسلی دینے کی کوشش کی کہ قانون میں عورتوں کی نصف گواہی کا تعلق محض مالی معاملات سے ہو گا۔ گویا معاشیات کی تعلیم سے بہرہ ور خاتون بینک مینجر کے مقابلے میں اس کے نیم خواندہ مرد چپراسی کی گواہی کو فوقیت دی جائے گی۔ تاہم کچھ ہی برس بعد مالی معاملات کی یہ شرط بھی غائب ہو گئی جب رشیدہ پٹیل کیس میں سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا کہ قتل عمد کے مقدمات میں عورتوں کی گواہی آدھی مانی جائے گی۔
![]() | |
| عورتوں پر ڈنڈے برسائے گئے اور انہیں سڑک پر گھسیٹا گیا |
چیف جسٹس ڈاکٹر جاوید اقبال تھے جن کی روشن خیالی کی بڑی دھوم تھی مگر فوجی آمریت کے مذہبی طوفان میں بڑے بڑے چراغ ٹمٹما رہے تھے۔ سیاسی سرگرمیوں پر پابندی تھی۔ ہزاروں سیاسی کارکن جیل میں تھے۔ اخبارات پر کڑی سنسر شپ تھی۔ سندھ کے گاؤں فوج کے محاصرے میں تھے۔ اسی سال فوجی آمر نے محب وطن دانشوروں پر وطن کی چاندنی، ہوا اور پانی حرام کرنے کی دھمکی دی تھی۔
پاکستانی تاریخ کا یہ پہلو دلچسپ ہے کہ ہر فوجی آمریت کا مقابلہ کرنے کے لیے عورت میدان میں اترتی ہے۔ فیلڈ مارشل ایوب خان کو فاطمہ جناح نے للکارا تھا۔ 1983 میں بندوقوں والے ایک نہتی لڑکی سے لرزہ براندام تھے۔ کئی برس بعد فوجی اقتدار کے دن واپس آئے تو لاہور کی سڑکوں پر کرین سے لٹکتی گاڑی میں فوجی حکومت کا مقابلہ کرنے والی عورت کا نام کلثوم نواز تھا۔
جسٹس منیر اس پر کہتے ہیں کہ مسلم اکثریتی معاشرے کی مجبوری یہ ہے کہ اسلام کا نام لینے پر کوئی سوال اٹھانے یا دلیل دینے کی ہمت نہیں کرتا۔ دانشور آرتھر کوئسلر نے ایسی ہی صورت حال کے بارے میں کہا تھا کہ وہ معاشرے بد نصیب ہوتے ہیں جہاں شہریوں کی عمومی ذہنی صلاحیت کمزور اور جذبات منہ زور ہوتے ہیں۔
سماجیات کے ماہر کہتے ہیں کہ بنیاد پرستی اپنی روح میں عورت دشمن ہے۔ یہاں ثقافت، رسومات اور مذہب کی من مانی تشریح سے ایسا گدلا پانی تیار کیا جاتا ہے جس میں تہذیب کا عکس دھندلا جاتا ہے۔
پاکستان میں عورتوں کے حقوق اور حیثیت کی صورت حال ابھی تک نہیں بدلی۔ امتیازی قوانین آج بھی موجود ہیں۔ بدترین پسماندہ رسمیں جاری ہیں۔ غیر قانونی پنچایتوں میں اسمبلیوں کے ارکان اور وزرا تک شریک ہوتے ہیں۔ ہم مسلسل انکار کی کیفیت میں ہیں۔ دانشوروں کی بڑی تعداد ملک میں زنا بالجبر کا وجود ہی تسلیم نہیں کرتی۔ گھریلو تشدد کے خوفناک اعداد و شمار کو جھٹلایا جاتا ہے۔ بچیوں کے سکول جلائے جانے کی گونج قانون ساز اداروں میں سنائی نہیں دیتی۔
حکومت کو محض یہ تشویش ہے کہ ان بدنما معاشرتی نمونوں کی خبر باہر کی دنیا تک کیوں پہنچتی ہے۔ اس کے ردعمل میں جنسی زیادتی کا شکار ہونے والی کسی خاتون کو زبردستی ملک سے نکالا جاتا ہے تو کسی کو ملک سے باہر سفر کرنے سے روکا جاتا ہے۔
![]() | |
| عورتیں قانون شہادت کے خلاف ایک یادداشت چیف جسٹس کو پیش کرنے جانا چاہتی تھیں |
12فروری 1983 کی سرد شام جب لاہور کی عورتیں آدھی گواہی کے خلاف سڑک پر نکلی تھیں تو یہ اندازہ لگانا مشکل تھا کہ ناانصافی کی یہ رات اس قدر طویل ہو جائے گی۔ فکری جبر معاشرے کے رگ و ریشے میں اتر جائے تو اجتماعی زوال کی بیماری روگ بن جاتی ہے۔
(وجاہت مسعود انسانی حقوق، صحافت اور تعلیم کے شعبوں میں وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔ وہ ادبی اور سیاسی موضوعات پر متعدد کتابوں کے مصنف ہیں اور آج کل برطانیہ میں بین الاقوامی قانون کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔)