Saturday, 11 February, 2006, 18:04 GMT 23:04 PST
جنرل پرویز مشرف نے کہا ہے کہ باجوڑ میں امریکی حملے میں ہلاک ہونے والوں میں ایمن االظواہری کا ایک قریبی رشتہ دار بھی شامل تھا۔
صدر پرویز مشرف کا کہنا ہے کہ ایمن الظواہری کی ڈمہ ڈولا میں آمد متوقع تھی لیکن وہ وہاں نہیں آئے۔
پاکستان کے فوجی سربراہ جنرل مشرف نے قبائلی عمائدین سے ملاقات میں القاعدہ کے اہم لوگوں کے ہلاک ہونے کی تصدیق تو کی لیکن کسی کا نام نہیں لیا۔
جنرل مشرف نے کہا کہ مرنے والوں میں ایمن الظواہری کے قریبی رشتہ دار کے علاوہ القاعدہ کے ایک اور نمایاں لیڈر بھی شامل تھے جن کے سر کی قیمت پانچ ملین امریکی ڈالر مقرر تھی۔
پاکستان کے قبائلی علاقے باجوڑ میں افغانستان کی سرحد کے ساتھ واقع گاؤں ڈمہ ڈولا پر امریکی حملے میں اٹھارہ افراد ہلاک ہوگئے تھے جن میں مبینہ طور پر القاعدہ سے تعلق رکھنے والے چار غیر ملکی بھی شامل تھے۔
امریکی حملے کے بعد امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق باجوڑ ایجنسی میں مرنے والوں میں القاعدہ تنظیم کے اہم رکن مدحت مرسی ، عبد الرحمٰن المصری المغربی اور ابو عبیدہ المصری شامل تھے۔
مدحت مرسی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ بم بنانے کے ماہر تھے اور امریکی حکومت نے ان کے سر کی قیمت پچاس لاکھ ڈالر مقرر کی تھی۔ عبدالرحمٰن المصری القاعدہ کے نائب سربراہ ایمن الظواہری کے داماد تھے۔