Monday, 06 February, 2006, 23:43 GMT 04:43 PST
ریاض سہیل
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
بلوچستان کے گورنر اویس غنی نے کہا کہ بلوچ سرداروں کے خلاف حکومت
فیصلہ کن کارروائی کرنے والی ہے اور اب مذاکرات کا وقت گذر چکا ہے۔
پیر کے روز کراچی کے بلوچستان ہاؤس میں ایک پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ شرپسندوں سے کوئی مذاکرات نہیں ہونگے۔مذاکرات کے لئے اڑھائی سال کوشش کی گئی اور اب سرداروں کے خلاف فیصلے کن کارروائی ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ نواب اکبر بگٹی قانون کی دسترس سے باہر ہو چکے ہیں۔
گورنر بلوچستان نے بتایا کہ حالیہ کارروائیوں کے دوران فرنٹیئر کانسٹیبلری کے ستائیس جوان شہید ہوچکے ہیں۔جبکہ فراری کیمپوں میں بھی لوگوں کے مرنے کی اطلاع ہے۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان سے چار ہزار لوگ گرفتار نہیں ہوئے ہیں بلکہ صرف پچیس دہشتگرد گرفتار کئے گئے ہیں۔
اویس عبدالغنی نے بتایا کہ بلوچستان میں اسلح اور منشیات کی رسد افغانستان سے ہوتی ہوئی اور افغان بارڈر اس قدر طویل ہے کہ اس کو سیل نہیں کیا جاسکتا۔ بلوچستان میں پینتیس ہزار ایف سی تعینات ہے جس میں سے بتیس ہزار صرف افغان بارڈر پر تعینات ہے۔
![]() | |
گورنر بلوچستان کا کہنا تھا کہ ’مجھے برطانوی حکومت کے ایک عملدار نے بتایا کہ برطانیہ میں جو منشیات پہنچتی ہے اس میں سے پچہتر فیصد افغانستان سے بلوچستان کے راستے برطانیہ آتی ہے۔‘