Sunday, 05 February, 2006, 23:26 GMT 04:26 PST
پاکستان کے وزیر داخلہ آفتاب احمد خان شیرپاؤ نے کہا ہے کہ کوئٹہ سے چلنے والی ایک بس میں ہونے والے دھماکے کی کڑیاں بلوچ قوم پرستوں کی طرف جاتی ہیں لیکن ابھی تک کوئی حتمی بات نہیں کہی جا سکتی۔
وزیر داخلہ نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس سے پہلے بھی ایسے واقعات ہوئے ہیں جن میں عام شہریوں کو نشانہ بنایا گیا تھا اور تحقیقات سے یہ ثابت ہو گیا کہ یہ دھماکے بلوچستان میں سرگرم کچھ شرپسندوں نے کرائے تھے۔
انہوں نے کہا شواہد سے ایسا لگتا ہے کہ کوئٹہ میں بس دھماکہ فرقہ وارانہ کشیدگی کا نتیجہ نہیں ہے کیونکہ فرقہ وارانہ تشدد میں ملوث لوگ ایک دوسرے کو نشانہ بناتے ہیں۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ جس بس میں دھماکہ ہوا وہ کوئٹہ سے لاہور جا رہی تھی اور اس سے پہلے بھی ایک واقعہ ہوا تھا جس میں پنجاب جانے والی بس کو روک کر اس میں پنجاب کے شہریوں کو اتار کر ان کے خلاف کارروائی کی گئی۔
انہوں نے کہا یہ تاثر ٹھیک نہیں ہے کہ بلوچستان میں کارروائیاں کرنے والے صرف قانون نافذ کرنے والے اداروں اور سرکاری تنصیبات کو نشانہ بناتے رہے ہیں۔
انہوں نے کہا لاہور میں سائیکل کو استعمال کر کے دھماکہ کرنے والے اور کراچی میں پی آئی ڈی سی بلڈنگ کے باہر دھماکہ کرنے والوں کا تعلق بلوچستان سے ہی نکلا۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ حفاظتی اقدامات سخت کر دیئے گئے ہیں اور بسوں میں آنے جانے والے مسافروں اور سامان کی اچھی طرح چھان بین کی جائے گی تاکہ اس طرح کے واقعات دوبارہ نہ ہو سکیں۔
انہوں نے کہا قانون نافذ کرنے والے پوری طرح چوکس ہیں اور دھماکہ کرنے والوں کا سراغ لگانے کی پوری کوشش کر رہے ہیں۔