http://bbc.com.im/urdu/

Friday, 03 February, 2006, 19:25 GMT 00:25 PST

عزیزاللہ خان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

بگٹی پر اغواء برائے تاوان کے دو مقدمات

جمہوری وطن پارٹی کے قائد اور بگٹی قبائل کے لیڈر نواب اکبر بگٹی کے خلاف اغوا برائے تاوان کے دو مقدمات درج کر لیے گئے ہیں۔

ڈیرہ بگٹی کے ضلعی رابطہ افسر عبدالصمد لاسی نے بتایا ہے کہ سوئی پولیس تھانے میں جمعہ کو دو اور مقدمات درج کر لیے گئے ہیں جن میں نواب اکبر بگٹی اور ان کے پوتے براہمدغ بگٹی سمیت چھبیس افراد شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ مقدمہ اغوا برائے تاوان کا ہے لیکن انہوں نے یہ بتانے سے انکار کر دیا کہ کن لوگوں کو اغوا کیا گیا ہے اور کہا ہے کہ اس سے ان لوگوں کو نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔ یہاں یہ معلوم ہوا ہے کہ یہ مقدمہ ایک خاتون کی طرف سے درج کیا گیا ہے۔

یاد رہے دو روز قبل نواب اکبر بگٹی سمیت تیرہ افراد کے خلاف پانچ مقدمے درج کیے جا چکے ہیں جن میں انسداد دہشت گردی بم دھماکے اور راکٹ باری کے علاوہ سرکاری عمارتوں کو نقصان پہنچانے کے حوالے سے دفعات شامل کی گئی تھیں۔

عبدالصمد لاسی نے کہا ہے کہ جمعہ کو مسلح قبائلیوں نے ڈیڑھ سو سے دو سو تک راکٹ ایف سی قلعہ سول کالونی اور سرکاری عمارتوں پر داغے ہیں جس سے ایف سی کا ایک اہلکار زخمی ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ عمارتوں کو شدید نقصان پہنچا ہے اور حملہ آوروں نے پانی مہیا کرنے والے ٹینکروں پر حملہ کیا۔ لوٹی اور پیرکوہ گیس پلانٹس کو پانی فراہم کرنے والی پائپ لائن کو گزشتہ ماہ دھماکے سے اڑا دیا گیا تھا۔

ادھر ڈیرہ بگٹی سے مقامی لوگوں نے بتایا ہے کہ ایف سی نے شہر پر بڑی تعداد میں گولے داغے ہیں جن میں کچھ نقل مکانی کرنے والے لوگوں کے گھروں پرگرے ہیں۔

اس گولہ باری سے دو خواتین سمیت تین افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے لیکن عبدالصمد لاسی نے اس بارے میں لا علمی کا اظہار کیا ہے۔