Tuesday, 31 January, 2006, 11:52 GMT 16:52 PST
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد سے ایک کلومیٹر کے فاصلے پر واقعہ سما بانڈی گاؤں لینڈ سلائڈنگ کی زد میں آگیا ہے اور پندرہ گھر اس کی زد میں آکر منہدم ہو چکے ہیں۔
سات سو سے آٹھ سو نفوس کی آبادی والے اس گاؤں میں تقریباً ایک سو چھبیس گھر ہیں جن کو خالی کرا لیا گیا ہے خدشہ ہے کہ اگر لینڈ سلائڈنگ جاری رہی تو یہ گھر بھی منہدم ہوجائیں گے۔
سما بانڈی جس پہاڑی کی ڈھلوان پر واقعہ ہے وہاں پیر کو رات گئے زمین سرکنا شروع ہوئی تھی جو سلسلہ ابھی تک جاری ہے۔
ڈپٹی کمشنر مظفر آباد چوہدری لیاقت نے کہا کہ اس گاؤں کے مزید ایک سو گھر خطرے میں ہیں اور ان کو خالی کرا لیا گیا ہے۔
گاؤں والوں نے جن میں بچوں اور عورتوں کی بھی ایک بڑی تعداد شامل ہے رات کھلے آسمان تلے گزاری اور منگل کو بھی وہ بے بسی کے عالم میں گاؤں سے کچھ فاصلے پر اپنے گھروں کو منہدم ہوتے ہوئے دیکھ رہے تھے۔
بہت سے گھروں سے سامان بھی نہیں نکالا جا سکا ہے اور لوگوں کو گاؤں میں جانے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔
مظفرآباد اور کشمیر کے دوسرے علاقوں میں پہاڑی ڈھلوانوں پر لینڈ سلائڈنگ ایک مستقل مسئلہ ہے اور مظفر آباد جانے والی شاہراہ اکثر پہاڑی تودے گرنے سے بند ہو جاتی ہے۔