Saturday, 28 January, 2006, 19:38 GMT 00:38 PST
اقوام متحدہ نے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں کام کرنے والے اپنے عملے کو سخت سکیورٹی انتظامات کی ہدایات جاری کی ہیں۔
اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ گزشتہ اکتوبر کے زلزلے سے متاثر ہونے والے علاقوں میں امدادی کارروائیوں میں مصروف عملے کے افراد رات کے وقت اپنے کیمپوں سے باہر نہ نکلیں، مقامی بازاروں میں جانے سے گریز کریں اور بڑے بڑے گروپوں میں سفر نہ کریں بلکہ دو افراد سے زیادہ ایک ساتھ سفر کرنے سے گریز کریں۔
اگرچہ یہ تمام ہدایات نئی نہیں ہیں تاہم اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ حالیہ اقدام کسی سکیورٹی معلومات کی بنا پر اٹھایا گیا ہے۔
دریں اثناء پاکستان میں زلزلہ زدہ علاقوں میں امدادی کام کرنے والی ’نیٹو فورسز‘ کی واپسی سترہ جنوری سے شروع ہوچکی ہے۔
پاکستان میں موجود ’نیٹو فورسز‘ کے ایک ترجمان میجر ایرک بران نے بتایا کہ فروری کے وسط تک ان کے تمام فوجی واپس چلے جائیں گے۔
گزشتہ سال آٹھ اکتوبر کو پاکستان میں آنے والے بدترین زلزلے سے ستر ہزار سے زیادہ افراد ہلاک اور اس سے زیادہ تعداد میں زخمی ہوئے تھے۔
زلزلہ زدہ علاقوں میں امدادی کام کے لیے پاکستان کی اپیل پر ’نیٹو فورسز‘ کے ایک ہزار کے قریب انجنیئر، ڈاکٹر اور دیگر ماہرین نومبر میں پاکستان پہنچے تھے۔
نیٹو کے فوجیوں کی پاکستان آمد متنازعہ بن گئی اور حزب اختلاف کی بیشتر جماعتوں نے خدشات ظاہر کیے تھے کہ وہ پاکستان میں مستقل رہیں گے اور کشمیر کا سروے کر رہے ہیں۔ حکومت نے حزب اختلاف کی تنقید کو مسترد کرتی رہی ہے۔
میجر ایرک نے بتایا کہ نیٹو فورسز اپنے ساتھ لائی گئی مشینری اور ہیلی کاپٹر وغیرہ واپس لے جائیں گے۔