http://bbc.com.im/urdu/

Wednesday, 25 January, 2006, 19:46 GMT 00:46 PST

ریاض سہیل
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

بھاشا ڈیم پر بھی خدشات کا اظہار

سندھ کے آبپاشی ماہرین نے مطالبہ کیا ہے کہ پانی کے بارے میں فنی کمیٹی کی رپورٹ پر مکمل عملدرآمد کی ضرورت ہے کیونکہ اب تک صرف اپنے مقصد کے من پسند نقات کو سامنے لایا گیا ہے۔

کراچی میں ایکشن ایڈ نامی این جی او کی جانب سے پاکستان میں پانی کی موجودگی اور بڑے ڈیموں کی تعمیر کے تعین کے لیے بنائی گئی اے این جی عباسی رپورٹ پر ایک ڈائیلاگ ہوا۔ جس میں بھاشا ڈیم پر بھی خدشات کا اظہار کیا گیا۔

ماہر آبپاشی ادریس راجپوت کا کہنا تھا کہ انیس سو اکاون کے پانی کے معاہدے کا حوالہ دیا جاتا ہے مگر اس میں واضح طور پر یہ کہا گیا ہے کہ ڈیم بننے چاہیں مگر اس کے لیے پانی موجود ہو اور وہ فنی،معاشی، سماجی اور ماحولیاتی طور پر موزوں ہو۔

انہوں نے بتایا کہ پانی کے معاہدے کے بعد یہ سمجھا جارہا تھا کہ اب یہ مسئلہ حل ہوجائیگا مگر ایسا ممکن نہیں ہوسکا۔ اس کے آڑے اقتداری سیاست آگئی۔

ادریس راجپوت نے کہا کہ عباسی نے پانی کے متعلق تمام ایشوز کی نشاندہی کی ہے اس لیے رپورٹ کی تمام شرائط اور نتائج پر عمل کرنا پڑیگا۔ اگر ایسا نہیں کیا گیا تو جو بھی اعلان کرلیں انصاف نہیں ہوگا اور لوگوں کے احتجاج کا سلسلہ جاری رہیگا۔

فنی کمیٹی میں سندھ کے رکن سردار احمد مغل نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ میں نے رپورٹ میں اپنے تاثرات میں کہا ہے کہ جو غیر متنازعہ ڈیم ہیں ان کو اہمیت دی جائے۔ وہ ڈیم جن سے بجلی بھی زیادہ پیدا ہو اور پانی کے ذخیرے کی گنجائش بھی زیادہ ہو۔

پانی کے ایشوز کے ماہر سکندر بروہی نے کہا کہ عباسی رپورٹ میں یہ واضح ہوگیا ہے کہ منگلا کو بھرنے سے سندھ میں پانی کی ساٹھ فیصد تک کمی ہوتی ہے۔ جبکہ چشما اور جھلم لنک کینال پورا سال چلائے جاتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بھاشا ڈیم کی عباسی نے شرائط کیساتھ حمایت کی ہے۔ ’کہا جارہا کہ اس سے صرف سندھ کو دو ملین ایکڑ فٹ پانی زیادہ ملے گا۔ مگر حقیقت میں ہر صوبے کے حصے میں صرف عشاریہ پانچ ملین ایکڑ فٹ پانی آئیگا۔صرف اتنے پانے کے لیے انیس بلین ڈالر کی سرمایہ کاری سمجھ سے باہر ہے‘۔

سابق سینیٹر اور ماہر آبپاشی قاضی عبدالمجید کا کہنا تھا کہ عباسی نے اس رپورٹ پر کام کرنے سے قبل ہی کہا تھا کہ وہ سب سے کمنٹس لینگے اور پھر اپنی رائے دینگے۔ انہوں نے ایک پاکستانی کے طور پر رپورٹ مرتب کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ غلط ہے کہ مشرقی دریا بھارت کو دینے سے صرف پنجاب کا نقصان ہوا ہے۔ سندھ نے بھی پانی گنوایا ہے۔ جو پانی کوٹڑی سے نیچے جاتا تھا وہ کم ہوگیا۔

انہوں نے بتایا کہ بھارت کو صرف آٹھ ملین ایکڑ فٹ کی ضرورت تھی مگر پاکستان نے فراخدلی کا مظاہرے کرکے اسے تینتیس ملین ایکڑ فٹ پانی دے دیا۔

قاضی عبدالمجید کا کہنا تھا کہ کہا جاتا ہے ڈیم بننے سے پانی بڑہ جاتا مگر یہ تاثر غلط ہے۔ ’ڈیم بننے سے پانی کم ہوتا ہے منگلا بننے کے بعد پانی میں دو عشاریہ تین کمی واقع ہوئی تھی‘۔