Tuesday, 24 January, 2006, 03:00 GMT 08:00 PST
یونیسیف نے دو ہزار پانچ میں ہنگامی طور پر عطیات اکٹھا کرنے کے تمام ریکارڈز توڑ دئے اور یہ اس وجہ سے ممکن ہوا کہ سونامی اور پھر پاکستان کے زلزلے کے متاثرین کی مدد کے لیے عالمی سطح پر غیر معمولی طور پر فراخ دلی کا مظاہرہ کیا گیا۔
لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ بین الاقوامی سطح پر اس دریادلی کے باوجود گزشتہ سال امدادی پروجکٹس کو مناسب طور پر فنڈز مہیا نہیں کرائے گئے اور عطیات دینے سے بیزاری دیکھی گئی اور شاید اس کی وجہ یہ تھی کہ سال دو ہزار پانچ میں دنیا کے مختلف حصوں میں انسانی بحران کےبڑے بڑے واقعات رو نما ہوتے رہے۔
یونیسیف کے مطابق ایمرجنسی کی صورت حال میں امدادی تنظیموں کو وہ رقم نہیں مل پاتی ہے جس کی اپیل کی جاتی ہے ۔ گزشتہ سال بھی یونیسیف نے پچیس مواقع پر امداد کی اپیل کی لیکن صرف چار مرتبہ ہی ایسا ہوا کہ ان کی اپیل پر جمع ہونے والی رقم پچاس فیصد تک پہنچی ہو۔
اب یونیسیف کا کہنا ہے کہ سال دو ہزار چھ میں اسے اسی کروڑ پچاس لاکھ امریکی ڈالر کی ضرورت ہوگی جس کے ایک تہائی حصہ کی ضرورت خانہ جنگی سے دوچار ملک سوڈان کو ہوگی۔ سوڈان کے ڈارفور میں ہر سال پانچ سال کی کم عمر کے تقریباً ایک لاکھ بچے ایسی مختلف بیماریوں سے ہلاک ہو جاتے ہیں جن کا علاج ممکن ہے۔
یونیسیف سابق سوویت یونین کے ممالک مثلاً چیچنیا، جارجیا، آرمینیا اور آذر بیجان کی فوری طور پر امداد کی اپیل کر رہا ہے جہاں داخلی تنازعے کی وجہ سے بچے بری طرح متاثر ہو رہے ہیں اور کروڑوں افراد مفلسی کی زندگی بسر کرنے کو مجبور ہیں۔
دریں اثناء یونیسیف کا کہنا ہے کہ جنوبی ایشیا میں بچوں میں غربت کا تناسب خطرناک حد تک زیادہ ہے۔ اس خطے میں تینتیس کروڑ بچوں کو سر چھپانے کے لئے مناسب مکان، پینے کا صاف پانی اور خوراک دستیاب نہیں ہے۔