Tuesday, 24 January, 2006, 19:34 GMT 00:34 PST
عزیزاللہ خان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ
جمہوری وطن پارٹی کے قائد نواب اکبر بگٹی نے کہا ہے کہ متحدہ قومی موومنٹ کے وفد کے بارے میں انھیں کچھ علم نہیں اور نا اس دورے کے بارے میں ان کی جماعت کے کسی ذمہ دار شخص سے رابطہ قائم کیا گیا تھا۔
ڈیرہ بگٹی میں اپنی پناہ گاہ سے ٹیلیفون پر باتیں کرتے ہوئے انھوں نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ اس وفد میں کون کون لوگ تھے اس کا بھی انھیں علم نہیں تھا۔ ایسے علاقے میں جہاں گولہ باری ہو رہی ہو وہاں کا دورہ کرنے کے لیے ان کی جماعت کے کسی ذمہ دار شخص سے رابطہ کرنا ضروری تھا اور دوسرا یہ کہ انھیں علم ہونا چاہیے کہ اس وفد میں کون کون آرہا ہے کیونکہ اس وفد میں ایسے لوگ بھی ہو سکتے ہیں جو ان کے مخالف ہیں۔
جب انھیں کہا گیا کہ متحدہ قومی موومنٹ نے آپ کے پوتے سے بات کی تھی تو انھوں نے کہا کہ ہماری ایک سیاسی جماعت ہے اور کسی بھی ذمہ دار شخصیت سے رابطہ کیا جا سکتا تھا۔ انھوں نے کہا کہ متحدہ کی قیادت نے پہلے حکومت سے علیحدہ ہونے کا الٹی میٹم دیا تھا اور فورا واپس لے لیا تھا جس کے بارے میں مختلف اطلاعات سامنے آئی ہیں اور یہاں لوگوں میں اسے تشویش کی نظر سے دیکھا جا رہا ہے۔
نواب اکبر بگٹی نے ڈیرہ بگٹی کی صورتحال کے حوالے سے بتایا ہے کہ وقفے وقفے سےفائرنگ اور گولہ باری ہوتی رہتی ہے منگل کے روز نیم فوجی دستےکی ایک گاڑی بارودی سرنگ سے ٹکرا گئی تھی جس میں سات افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے اور زخمیوں کو تین گاڑیوں میں اٹھا کر سوئی کی طرف لے گئے ہیں۔ ہو سکتا ہے ان میں کچھ ہلاکتیں بھی ہوئی ہوں۔ سرکاری سطح پر اس کی تصدیق نہیں کی گئی۔
نواب اکبر بگٹی سے جب اس مسئلے کا حل پوچھا تو انھوں نے کہا کہ وہ تو جنرل صاحب بتا چکے ہیں کو وہ یہاں سب کو ختم کریں گے۔ انھوں نے کہا کہ ہم تو اپنی زندگی گزار چکے ہیں اب آئندہ نسلیں ہی صورتحال دیکھیں گی۔