Sunday, 15 January, 2006, 19:33 GMT 00:33 PST
ایوب ترین
کوئٹہ
بلوچستان سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق اوچھ پاور پلانٹ کی طرف جانے والی گیس پائپ لائن کو دھماکے سے اڑا دیا گیا ہے۔ یہ دھماکہ اتوار کی رات تقریباً نو بجے کیا گیا۔
اس کے ساتھ ہی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں لوڈ شیڈنگ شروع ہو گئی ہے۔ گیارہ گرڈ سٹیشنوں سے بجلی کی سپلائی بند ہو گئی ہے جبکہ دیگر علاقوں میں چھ گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ شروع کر دی گئی ہے۔
نوشکی میں بھی دو بم دھماکے ہوئے ہیں جس سے کوئٹہ اور زاہدان کو ملانے والی شاہراہ آر سی ڈی پر ایک پل کو نقصان پہنچا ہے۔
اس کے علاوہ کوئٹہ میں بھی ایک گرنیڈ دھماکہ ہوا ہے لیکن کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ یہ گرنیڈ پنجاب سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کے گھر میں پھینکا گیا تھا۔
کاہان سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق بمباری میں آٹھ سے دس افراد ہلاک ہو گئے ہیں تاہم اس کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔
مری قبائل کا کہنا ہے کہ آج ایف سی کی جانب سے دن بھر راکٹ داغے جاتے رہے جس کے نتیجے میں ان کے گیارہ افراد ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ آزارد ذرائع نے یہ تعداد آٹھ بتائی ہے۔
انتظامیہ نے کسی قسم کی ہلاکتوں کی تصدیق نہیں کی ہے۔ ایف سی کے ترجمان کا کہنا ہے کہ مری قبائل کے لوگوں نے ایف سی کے قلعے پر آج 45 راکٹ پھینکے تاہم انہوں نے اس کے نتیجے میں کسی ممکنہ نقصان کی تفصیل نہیں بتائی۔